World
روس یوکرین جنگ: پیٹرول پمپس پر حملوں کا سلسلہ شروع
یوکرین کی جانب سے روسی تیل کی ریفائنریز کو نشانہ بنانے کے بعد روس نے بھی یوکرینی پیٹرول پمپس پر جوابی حملے تیز کر دیے ہیں۔ ان خطرناک حالات کے پیش نظر مقامی فیول کمپنیوں نے شہریوں کو پٹرول پمپس پر زیادہ دیر نہ رکنے کی ہدایت کی ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ اب ایک نئے اور خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں یوکرینی افواج کی جانب سے روس کی تیل صاف کرنے والی اہم تنصیبات اور ریفائنریز کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے روسی توانائی کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان حملوں کے ردعمل میں روس نے بھی جارحانہ جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جس میں یوکرین بھر میں قائم پیٹرول پمپس اور فیول اسٹیشنز کو خاص طور پر ہدف بنایا جا رہا ہے۔ اس نئی صورتحال نے عام شہریوں کی زندگی کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے کیونکہ ایندھن کی فراہمی کا نظام شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر یوکرین کی بڑی فیول سپلائی کمپنیوں نے اپنے صارفین کے لیے ہنگامی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ کمپنیوں نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ پیٹرول پمپس پر ایندھن بھرواتے وقت غیر ضروری تاخیر نہ کریں اور فوری طور پر وہاں سے روانہ ہو جائیں۔ یہ ہدایات حال ہی میں پٹرول پمپس پر ہونے والے مہلک حملوں کے بعد جاری کی گئی ہیں، جن میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ حکام کا ماننا ہے کہ پیٹرول پمپس پر ہجوم کی موجودگی دشمن کے لیے ایک آسان ہدف بن سکتی ہے، اسی لیے عوام کو اپنی جان کی حفاظت کے لیے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جنگ اب براہِ راست معاشی پہلوؤں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ تیل کی تنصیبات اور پیٹرول پمپس کو ہدف بنانا دراصل دونوں ممالک کی سپلائی چین کو مفلوج کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف مقامی سطح پر ایندھن کی قلت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے، لیکن فی الحال کسی قسم کی جنگ بندی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
یوکرین کی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری کردہ الرٹس پر عمل کریں اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی صورت میں فوری حکام کو اطلاع دیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان یہ 'توانائی کی جنگ' آنے والے دنوں میں خطے کے لیے مزید بحرانی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ عوام خوف کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں اور پیٹرول پمپ جانے جیسے روزمرہ کے کام بھی اب جان لیوا خطرات سے خالی نہیں رہے۔ یہ جنگ کس طرف جائے گی، اس کا انحصار آنے والے دنوں کی فوجی حکمت عملیوں پر ہوگا۔