World
ٹریولاج ہوٹل اسکینڈل: خواتین مہمانوں کی حفاظت پر سوالیہ نشان
برطانیہ کے مشہور ہوٹل چین ٹریولاج میں سیکیورٹی کی سنگین کوتاہیوں کے باعث خواتین مسافروں کو خوفناک تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے نامعلوم افراد کو مہمانوں کے کمروں کی چابیاں فراہم کی گئیں۔
برطانیہ کی معروف ہوٹل چین 'ٹریولاج' (Travelodge) ایک سنگین تنازعہ کی زد میں آ گئی ہے، جس نے ہوٹل انڈسٹری میں مہمانوں کی سیکیورٹی کے معیار پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث خواتین مہمانوں کی حفاظت کو خطرات لاحق ہوئے، جہاں ہوٹل کے عملے نے نامعلوم مردوں کو خواتین کے کمروں کی چابیاں فراہم کیں، جس کے نتیجے میں کئی خواتین کو انتہائی خوفناک اور ذہنی اذیت ناک لمحات سے گزرنا پڑا۔ ایک متاثرہ خاتون وینڈی گریفتھ کا کہنا ہے کہ وہ رات کے وقت اپنے کمرے میں سو رہی تھیں کہ اچانک دو اجنبی مردوں کو اپنے بستر کے پاس کھڑے دیکھ کر ان کی روح تک کانپ گئی۔
اس تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے واقعات محض اتفاق نہیں بلکہ ہوٹل کی سیکیورٹی پالیسیوں میں موجود بڑی خامیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہیں تسلی بخش جواب دینے کے بجائے سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا۔ ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے مہمانوں کی تصدیق کیے بغیر کمروں کی چابیاں یا 'ڈپلیکیٹ کی کارڈز' نامعلوم افراد کو دینا نہ صرف ہوٹل کے قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے طے کردہ سیکیورٹی پروٹوکولز کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ہوٹل کا عملہ اکثر اوقات ہجوم کے دباؤ یا لاپرواہی میں بنیادی سیکیورٹی چیکس کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق اس طرح کے واقعات سے ٹریولاج جیسے بڑے برانڈ کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ مہمان، جو ہوٹل میں قیام کے دوران خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں، اب اپنی نجی زندگی اور سلامتی کے حوالے سے خدشات کا شکار ہیں۔ ہوٹل انتظامیہ پر عوامی حلقوں کی جانب سے سخت دباؤ ہے کہ وہ اپنے سیکیورٹی سسٹم کو جدید بنائے، عملے کی تربیت پر توجہ دے اور ہر مہمان کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے لیے سخت سے سخت ضابطہ اخلاق نافذ کرے۔ اگر ان مسائل پر قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف یہ ہوٹل قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرے گا بلکہ سیاحت اور ہوٹل انڈسٹری پر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو جائے گا۔ ٹریولاج نے اپنے بیان میں ان واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے تاہم متاثرہ خواتین کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں کسی اور کو ایسے بھیانک تجربے سے نہ گزرنا پڑے۔