Business
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے آسان قرض: سرکاری بینکوں کی نئی تجاویز
بھارت کے سرکاری بینکوں نے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری اور چارجنگ انفراسٹرکچر کے لیے ترجیحی شعبے میں قرض کی نئی حدود تجویز کی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مالی معاونت کو آسان بنانا ہے۔
بھارت کے سرکاری بینکوں نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) اور صاف توانائی (Clean Energy) کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے ترجیحی شعبے میں قرض دینے (Priority Sector Lending) کے نئے قواعد و ضوابط تجویز کیے ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد نہ صرف ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے بلکہ شہریوں کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کو مالی طور پر آسان بنانا ہے۔ بینکوں کی جانب سے دی گئی تجاویز کے مطابق، ذاتی استعمال کے لیے الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کے لیے 2 لاکھ روپے اور چار پہیہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 20 لاکھ روپے تک کے قرض کی حد مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ اقدام ان افراد کے لیے انتہائی اہم ہے جو مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں کے باعث انہیں خریدنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ مزید برآں، یہ تجاویز توانائی کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر بھی خاص توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ بینکوں نے چارجنگ اسٹیشنز اور بیٹری سویپنگ کے انفراسٹرکچر کے لیے 25 کروڑ روپے تک قرض فراہم کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ، دیگر متعلقہ منصوبوں کے لیے 50 کروڑ روپے تک کی حد مقرر کی گئی ہے، جو کہ ملک بھر میں گرین انرجی کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ان اقدامات سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں تیزی آئے گی اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان تجاویز کو باقاعدہ پالیسی کا حصہ بنا لیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف آٹوموبائل انڈسٹری کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہوگی بلکہ سرمایہ کاروں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کرے گی۔ فی الحال یہ تجاویز زیر غور ہیں اور ان پر متعلقہ حکام کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے تاکہ ملک کے مالیاتی نظام میں اسے کامیابی سے ضم کیا جا سکے۔ یہ پیشرفت کلین انرجی کی جانب ایک اہم قدم ہے جو مستقبل میں سبز معیشت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔