LIVE
Loading Breaking News...

خلیجی کشیدگی اور ٹارگٹڈ فیول سبسڈی کی واپسی کا امکان

News Image
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو حکومت عوام کو قیمتوں کے جھٹکوں سے بچانے کے لیے ٹارگٹڈ فیول سبسڈی دوبارہ شروع کر سکتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین اور اس کے اثرات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر خلیجی خطے اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی نہ آئی تو ملک میں ٹارگٹڈ فیول سبسڈی کا نظام دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت عام شہریوں کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی وزیراعظم کی جانب سے عوام کی ریلیف کے لیے بھاری فنڈز فراہم کیے گئے تھے اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ٹارگٹڈ سبسڈی کا مؤثر نظام چلایا گیا تھا۔ دوسری جانب، وزیر پیٹرولیم نے پیٹرولیم قیمتوں کے Deregulation کے منصوبے پر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا شفاف نظام عوام کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار سے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا اثر یکمشت بڑے جھٹکے کی بجائے بتدریج صارفین تک منتقل ہوتا ہے، جس سے اچانک مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت ایک سخت بین الاقوامی مالیاتی ادارے (IMF) کے پروگرام کے تحت چل رہا ہے، اس لیے محدود مالیاتی وسائل کے باوجود ایندھن کی اصل لاگت کو صارفین تک منتقل کرنا حکومت کی مجبوری ہے تاکہ معیشت پر باری بوجھ نہ پڑے۔ ادھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم قیمتوں کے نئے میکانزم پر ارکان کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض سینیٹرز نے اس نظام کو شفاف قرار دے کر سراہا جبکہ کچھ ارکان نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اوگرا کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ کے سات روزہ اوسط رجحان کی بنیاد پر انتہائی شفاف طریقے سے کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے پیٹرولیم ڈیلرزAssociation کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اوگرا کو ہدایت کی کہ وہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک جامع اور عملی تجاویز پر مبنی رپورٹ پیش کرے تاکہ ڈیلرز کے کاروباری مسائل کو حل کیا جا سکے۔