Education
اسکولوں میں مرد اساتذہ کی کمی کا مسئلہ اور اس کے اثرات
تعلیمی اداروں میں مرد اساتذہ کی کمی کا رجحان عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے جس کے تدارک کے لیے ماہرین تعلیم نئی حکمت عملی مرتب کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں اساتذہ کی تعداد میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں مرد اساتذہ کی تعداد میں مسلسل کمی ایک سنگین چیلنج کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ نیشنل سینٹر فار ایجوکیشن اسٹیٹسٹکس کی حالیہ رپورٹس کے مطابق پبلک اسکولوں میں مرد اساتذہ کا تناسب اب صرف 23 فیصد تک رہ گیا ہے، جبکہ 1988 میں یہ شرح 30 فیصد تھی۔ یہ کمی نہ صرف تعلیمی نظام کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے بلکہ طلبہ کی نفسیاتی اور سماجی تربیت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسکولوں میں متنوع صنفی نمائندگی نہ صرف بچوں کے لیے بہتر ہے بلکہ یہ تعلیمی ماحول کو مزید متوازن بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
اس رجحان کے پیچھے کئی سماجی اور معاشی عوامل کارفرما ہیں۔ بہت سے مردوں کا خیال ہے کہ تدریس کا شعبہ ان کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، جبکہ بعض معاشروں میں تدریس کو اب بھی خواتین کا شعبہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسکولوں میں نظم و ضبط اور طلبہ کی رہنمائی کے لیے مرد اساتذہ کی عدم موجودگی سے تعلیمی ماحول میں ایک خلا پیدا ہو رہا ہے۔ ماہرینِ تعلیم اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مردوں کو تدریس کی طرف راغب کرنے کے لیے مراعات میں اضافہ کیا جائے اور ان کے لیے کیریئر کے مواقع کو مزید پرکشش بنایا جائے۔
اس صورتحال کو بدلنے کے لیے مختلف ممالک میں 'میل ایجوکیٹرز' کے نام سے نئی تحریکیں شروع کی گئی ہیں، جن کا مقصد نوجوانوں کو تدریس کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور انہیں اس شعبے میں لانا ہے۔ اسکول انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کیسے تعلیمی ڈھانچے کو لچکدار بنایا جائے تاکہ مرد اساتذہ اپنی خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تدریس کو بھی جاری رکھ سکیں۔ حکومتوں سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے اور انہیں بہتر سماجی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ اس شعبے کی ساکھ دوبارہ بحال ہو سکے۔
آخر میں، یہ بات قابل غور ہے کہ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے صنفی توازن انتہائی ضروری ہے۔ جب ایک طالب علم کو اپنے اساتذہ میں تنوع نظر آتا ہے تو اس کی سیکھنے کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اگر بروقت ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اسکولوں میں مرد اساتذہ کا فقدان تعلیمی معیار پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ آنے والے برسوں میں تعلیمی اداروں کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لا کر مردوں کے لیے تدریس کے پیشے کو ایک باوقار اور پرکشش انتخاب کے طور پر پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔