World
افغانستان میں طالبان عہدیدار کا قتل: داعش خراسان کا دعویٰ
داعش کی علاقائی شاخ نے شمال مشرقی افغانستان میں طالبان کے محکمہ اطلاعات کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ وزارت اطلاعات و ثقافت کے مطابق اس بزدلانہ حملے میں ملوث ایک حملہ آور کو ہلاک جبکہ دوسرے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
کابل: عسکریت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ (داعش) کی علاقائی شاخ نے شمال مشرقی افغانستان میں طالبان حکومت کے ایک اہم عہدیدار پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بدخشاں میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری کو منگل کے روز اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا جب وہ صوبائی دارالحکومت فیض آباد جا رہے تھے۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد سکیورٹی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور طالبان حکام نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ مانیٹرنگ آرگنائزیشن 'سائٹ انٹیلی جنس گروپ' کے جاری کردہ بیان کے مطابق داعش خراسان نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے اس کارروائی کو انجام دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ خلافت کے سپاہیوں نے ارتداد کا شکار طالبان ملیشیا کے ایک کمانڈر کو مشین گنوں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ اپنے ایک محافظ سمیت ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے ذبیح اللہ امیری جنوبی ہلمند کے گورنر امان الدین منصور کے بھتیجے بتائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب، افغانستان کی وزارت اطلاعات و ثقافت نے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ منگل کے روز پیش آنے والے اس بزدلانہ حملے کے فورا بعد جوابی کارروائی کی گئی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف فوری ایکشن لیتے ہوئے ایک حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا جبکہ دوسرے کو سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا۔ وزارت نے اپنے سخت ردعمل میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اسلامی حکومت کے دشمنوں کی اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں کبھی بھی ہمارے عزم اور پختہ ارادے کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ سنہ 2021 میں کابل میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اگرچہ طالبان حکام نے ملک بھر میں امن و امان بحال کرنے اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم اس کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے حملے اور پرتشدد واقعات اب بھی رونما ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی داعش خراسان کابل میں کئی بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے، جن میں دسمبر 2024 کا وہ خودکش دھماکہ بھی شامل ہے جس میں طالبان وزیر خلیل الرحمان حقانی جاں بحق ہوئے تھے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سکیورٹی چیلنجز اب بھی طالبان انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان بنے ہوئے ہیں، جبکہ داعش کی یہ کارروائیاں خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔