LIVE
Loading Breaking News...

حمل میں موٹاپا اور بچوں کی صحت پر اس کے دور رس اثرات

News Image
ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دورانِ حمل ماؤں کا زیادہ وزن بچوں میں مستقبل میں انسولین کے خلاف مزاحمت کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی سیلولر سطح پر موروثی اثرات کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔
ایک حالیہ طبی تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ دورانِ حمل ماؤں کا زیادہ وزن نہ صرف ان کی اپنی صحت کے لیے مضر ہے بلکہ یہ بچوں میں مستقبل میں پیدا ہونے والی میٹابولک بیماریوں کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس عمل کو 'ٹرانس پلیسینٹل ایس ای وی-ایم آئی آر این اے-ایپی جینیٹک ایکسس' کا نام دیا ہے، جو ماں سے بچے تک بیماریوں کی منتقلی کے عمل کو واضح کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق حاملہ خواتین کے جسم میں موجود 'ایس ای وی' (چھوٹے ایکسٹرا سیلولر ویسیکلز) خون کے ذریعے بچے تک پہنچتے ہیں اور ان میں موجود مخصوص مالیکیولز بچے کے جگر کی نشوونما پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اس تحقیق کا مرکزی نکتہ miR-29a-3p نامی مالیکیول ہے، جو ماں کے جسم سے نال کے ذریعے بچے کے جگر تک پہنچتا ہے۔ یہ عمل بچے کے جسم میں گلوکوز کو میٹابولائز کرنے کے قدرتی نظام میں ایپی جینیٹک تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔ جب یہ مالیکیول بچے کے جگر میں داخل ہوتا ہے، تو یہ جینز کے اظہار کو اس طرح تبدیل کر دیتا ہے کہ بڑا ہونے پر بچے کے جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت (Insulin Resistance) پیدا ہو جاتی ہے۔ سادہ الفاظ میں، ماں کا بڑھتا ہوا وزن بچے کے جگر کو مستقبل میں شوگر کو کنٹرول کرنے میں مشکلات سے دوچار کر دیتا ہے، جس سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ ہمیں بیماریوں کے موروثی پھیلاؤ کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اب تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ موٹاپا صرف طرزِ زندگی کا مسئلہ ہے، لیکن اس تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ ماں کے پیٹ سے ہی بچے کی میٹابولک صحت کو متاثر کرنا شروع کر دیتا ہے۔ سائنسی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ دورانِ حمل خواتین کی غذائیت اور وزن کا کنٹرول نہ صرف ان کی اپنی صحت کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کی تندرستی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ مستقبل میں اس تحقیق کی بنیاد پر ایسی نئی تھراپیز اور ادویات تیار کی جا سکیں گی جو ماں کے جسم میں ان نقصان دہ مالیکیولز کے اثرات کو روک سکیں، تاکہ بچوں کو پیدائشی طور پر لاحق ہونے والے میٹابولک خطرات سے بچایا جا سکے۔ یہ پیش رفت میڈیکل سائنس کے میدان میں ایک سنگ میل ہے جو حمل کے دوران ماں کی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کس طرح ہم ایک صحت مند نسل کی تعمیر کر سکتے ہیں۔