Technology
فشنگ ڈیٹیکشن میں AI ماڈلز کی وضاحت: SHAP اور LIME کا تجزیہ
بھارتی محققین نے فشنگ ویب سائٹس کا پتہ لگانے والے بوسٹنگ ماڈلز کی تشریح کے لیے SHAP اور LIME ٹولز کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ تحقیق سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو سمجھنے اور انہیں مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
حال ہی میں پارول انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، پارول یونیورسٹی، گجرات کے ماہرین صبین پنتھی اور مکیش پاٹیدار نے ایک اہم تحقیقی مطالعہ پیش کیا ہے جس میں فشنگ یو آر ایل (Phishing URL) کی نشاندہی کرنے والے بوسٹنگ ماڈلز کی تشریح کے لیے SHAP اور LIME جیسے جدید ٹولز کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کسی ویب سائٹ کو خطرناک یا محفوظ قرار دیتے ہیں، اور اس عمل میں شفافیت کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
فشنگ حملے آج کل سائبر سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں، جہاں دھوکہ دہی پر مبنی ویب سائٹس کے ذریعے صارفین کا حساس ڈیٹا چوری کیا جاتا ہے۔ مشین لرننگ میں 'بوسٹنگ ماڈلز' کا استعمال ان حملوں کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے، تاہم یہ ماڈلز اکثر 'بلیک باکس' کی طرح کام کرتے ہیں، یعنی یہ بتانا مشکل ہوتا ہے کہ انہوں نے کسی یو آر ایل کو فشنگ کیوں قرار دیا۔ محققین نے اس مسئلے کے حل کے لیے SHAP (Shapley Additive Explanations) اور LIME (Local Interpretable Model-agnostic Explanations) کا استعمال کیا ہے تاکہ ان ماڈلز کے فیصلے کرنے کے طریقہ کار کو واضح کیا جا سکے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق، SHAP اور LIME دونوں ہی ماڈلز کی تشریح میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ان کی افادیت مختلف حالات میں مختلف ہو سکتی ہے۔ SHAP جہاں ماڈل کے ہر فیچر کی اہمیت کو زیادہ درستگی کے ساتھ ظاہر کرتا ہے، وہیں LIME مقامی سطح پر تیزی سے نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ مطالعہ سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے کہ وہ فشنگ ڈیٹیکشن کے نظام کو مزید شفاف کیسے بنائیں، تاکہ غلط شناخت (False Positives) کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
آخر میں، یہ تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی سیکیورٹی سسٹم کو صرف درستگی تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ان کی وضاحت (Explainability) بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ حملہ آوروں کی نئی تکنیکوں کا بروقت توڑ کیا جا سکے۔ پارول یونیورسٹی کے محققین کا یہ کام مستقبل میں فشنگ کے خلاف دفاعی حکمت عملیوں کو مزید مستحکم کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرے گا اور سائبر سیکیورٹی کے میدان میں شفاف AI کے استعمال کی راہ ہموار کرے گا۔