World
امریکہ اور کینیڈا کی تجارتی جنگ اور چین کا کردار
امریکہ اور کینیڈا کے مابین شدید تجارتی کشیدگی اور محصولات کے تنازع نے ایک مکمل تجارتی جنگ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ کینیڈا کی جانب سے امریکی اشیا پر پچاس فیصد تک کے جوابی ٹیکس کے اعلان کے بعد عالمی معاشی منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے۔
امریکہ اور کینیڈا کے مابین تعلقات میں اس وقت شدید تناؤ پیدا ہو گیا جب دونوں ممالک ایک کھلی تجارتی جنگ میں الجھ گئے۔ واشنگتن کی جانب سے عائد کردہ اقدامات کے جواب میں کینیڈا نے بھی سخت لائحہ عمل اپناتے ہوئے امریکہ پر جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا۔ بی بی سی اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق، کینیڈا کی حکومت نے امریکی اشیا پر پچاس فیصد تک کے بھاری جوابی ٹیکس لگانے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے دوطرفہ تجارت کو شدید دھکا لگا ہے۔ اس تجارتی کشیدگی کی وجہ سے شمالی امریکہ کی معیشت میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور دونوں اطراف کے کاروباری حلقے سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ دوسری جانب، عالمی معاشی طاقت چین اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس تجارتی محاذ آرائی کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی حکمت عملی تیار کر رہا ہے۔ بیجنگ کا بنیادی ہدف اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی منڈیوں میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنا اور تجارت کے نئے راہیں تلاش کرنا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور کینیڈا کے درمیان یہ تجارتی محاذ آرائی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے، تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی سپلائی چین اور معاشی نمو پر اس کے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔