LIVE
Loading Breaking News...

امریکی محکمہ خارجہ کا افریقی ممالک کے غلط نقشے پر اعترافِ غلطی

News Image
برازیل میں منعقدہ ایک عالمی کانفرنس کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے افریقہ کا ایک ایسا نقشہ پیش کیا گیا جس میں تمام ممالک کے نام اور مقامات غلط درج تھے۔ اس نقشے کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے جلدی بازی میں تیار کیا گیا تھا جس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ریاض جنوری میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے دوران اس وقت ایک دلچسپ اور شرمناک صورتحال پیدا ہو گئی جب امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے پیش کردہ افریقہ کے نقشے میں تمام ممالک کے نام اور ان کی جغرافیائی حدود مکمل طور پر غلط درج تھیں۔ برزیل میں ایڈز 2026ء کی عالمی کانفرنس کے موقع پر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ایک نئی صحت سے متعلقہ پیشکش کے دوران یہ نقشہ سکرین پر دکھایا گیا، جس پر وہاں موجود شرکاء نے فوری طور پر حیرت کا اظہار کیا اور اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں۔ ماہرین نے بعد میں انکشاف کیا کہ اس نقشے پر مصنوعی ذہانت کا ایک واٹر مارک بھی موجود تھا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسے اوپن اے آئی کے ٹولز کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ اس غلطی کے سامنے آنے کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے پوری ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ یہ نقشہ ایک ٹیم ممبر نے ایونٹ سے فورا قبل جلدی میں سلائیڈ ڈیک تبدیل کرتے وقت بنایا تھا۔ نقشے کے اندر نائیجیریا جیسا ملک، جہاں اس وقت امریکی فوج کے سینکڑوں اہلکار تعینات ہیں، صحراِ صحارا کے درمیان خشکی میں گھرا ہوا دکھایا گیا۔ اس کے علاوہ جنوب مشرقی افریقہ میں واقع موزمبیق کو افریقہ کے سینگ کے مقام پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ مغربی افریقہ میں واقع آئیوری کوسٹ کو برصغیر کے بالکل دوسری طرف پایا گیا۔ اس نقشے کے اسکرین شاٹس سب اسٹیک پر ایڈز کی ماہر ایمی باس کی ایک پوسٹ کے ذریعے سب سے پہلے سامنے آئے اور پھر لنکڈ ان سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑی تیزی سے شیئر کیے گئے۔ اٹلانٹک کونسل میں مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والے ماہر میٹ پیٹیٹ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ جس شخص نے بھی یہ سلائیڈ تیار اور منظور کی، اسے افریقہ کے ممالک کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی اس نے اپنے کام کو چیک کرنے کی زحمت کی۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر حکومتوں کے اداروں میں مصنوعی ذہانت کے بے دریغ اور غیر ذمہ دارانہ استعمال پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔