LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز کی بندش برقرار: تہران نے عمان کے ساتھ بحری معاہدے کی وضاحت کر دی

News Image
تہران نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ بحری راستوں کے حوالے سے ہونے والے حالیہ معاہدے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آبنائے ہرمز کو کھول دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق موجودہ تنازع کے پیش نظر آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہے گی اور بحری نقل وحمل پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
تہران: ایرانی حکومت نے ایک اہم اور باضابطہ بیان میں واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ بحری راستوں کی تنظیم کے سلسلے میں طے پانے والے حالیہ معاہدے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز کو تجارتی یا عام بحری نقل و حمل کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ تہران کی جانب سے جاری کردہ اس تازہ ترین موقف میں کہا گیا ہے کہ خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، بین الاقوامی تنازعات اور عسکری کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کے بنیادی تجارتی اور سمندری روٹ کی بندش اور کڑی نگرانی کا فیصلہ مکمل طور پر برقرار رہے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق مسقط اور تہران کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی بات چیت محض مخصوص اور ہنگامی بحری راستوں کے استعمال سے متعلق ایک تیکنیکی اور محدود انتظام ہے، جس کا مقصد سمندری حدود میں پیش آنے والے ناگہانی خطرات اور حادثات کو کم کرنا ہے۔ تاہم اس عارضی یا تیکنیکی اقدام کو آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی یا بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی بلا تعطل اور آزادانہ اجازت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ تہران نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک خطے میں دشمنانہ اقدامات اور غیر ملکی مداخلت موجود ہے، آبنائے ہرمز میں ایرانی دفاعی فورسز کی جانب سے نافذ کردہ سیکیورٹی تدابیر انتہائی سخت رہیں گی۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل اور ایل این جی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم اور حکمت عملی کی حامل ترین سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کے کل خام تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ روزانہ بنیادوں پر گزرتا ہے۔ اس اہم ترین راستے کی مسلسل بندش یا نقل و حمل کو محدود رکھنے کے فیصلوں نے عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی سپلائی چین کے تحفظ سے متعلق شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس بین الاقوامی شاہراہ پر کشیدگی اور بندش طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر انتہائی خطرناک حد تک مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب سلطنت عمان نے تہران اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ اپنے سفارتی روابط جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی جنگی صورتحال کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور بحری راستوں میں پیدا ہونے والے بحران کا ممکنہ حل تلاش کیا جا سکے۔ تاہم ایرانی حکام کا موقف انتہائی واضح ہے کہ جب تک تہران کی قومی سلامتی اور سیکیورٹی خدشات کا مکمل ازالہ نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز پر سیکیورٹی کا سخت کنٹرول اور بحری راستوں پر عائد پابندیاں بدستور قائم رہیں گی اور اس حوالے سے کوئی تساہل نہیں برتا جائے گا۔