Technology
آئی بی ایم کی نئی چپ: آرم اور زیڈ آرکیٹیکچر کی بیک وقت پروسیسنگ کا شاندار مظاہرہ
آئی بی ایم نے ایک جدید ترین پروسیسر چپ کی تیاری کا اعلان کیا ہے جو بیک وقت آرم اور مین فریم زیڈ آرکیٹیکچر کی ہدایات پر عمل کر سکتی ہے۔ اس تکنیکی پیشرفت سے کاروباری ڈیٹا سنٹرز کی رفتار اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی آئی بی ایم (IBM) نے ایک نئے اور انقلابی پروسیسر چپ کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جو بیک وقت مختلف فنِ تعمیر (آرکیٹیکچر) پر مبنی ہدایات پر عمل درآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس چپ کے ذریعے آئی بی ایم کی اپنی روایت مین فریم چپس (Z architecture) کے ساتھ ساتھ آرم (Arm) اور لینکس ون (LinuxONE) آرکیٹیکچر کی ہدایات کو بھی نیٹو انداز میں پروسیس کیا جا سکے گا۔ یہ پیشرفت ہائبرڈ کمپیوٹنگ کے ایک نئے دور کا آغاز سمجھی جا رہی ہے۔ عام طور پر مختلف پروسیسر آرکیٹیکچر کے کوڈ کو چلانے کے لیے ایمولیٹرز یا سافٹ ویئر لیئرز کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے پروسیسنگ کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور توانائی کی کھپت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم، آئی بی ایم کی اس نئی پیشرفت سے پروسیسر کورز براہِ راست مختلف ہدایات کو بغیر کسی ترجمانی یا تاخیر کے پروسیس کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف مین فریم سسٹمز کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ آرم آرکیٹیکچر پر چلنے والی جدید ترین ایپلیکیشنز کو بھی بغیر کسی رکاوٹ کے چلایا جا سکے گا۔ کمپنی کے ذرائع کے مطابق یہ چپ کاروباری اداروں اور ڈیٹا سنٹرز کے لیے انتہائی فائدے مند ثابت ہوگی، کیونکہ جدید ڈیٹا سنٹرز میں آرم آرکیٹیکچر کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس نئی چپ کی مدد سے ادارے اپنے پرانے مین فریم سسٹمز کو برقرار رکھتے ہوئے آرم پر مبنی ورک لوڈز کو بیک وقت منتقل کر سکیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی بی ایم کی یہ تکنیکی کامیابی چپ ڈیزائننگ کی دنیا میں ایک بڑا قدم ہے جس سے اینٹرپرائز پروسیسنگ کے اخراجات میں کمی اور رفتار میں بے پناہ اضافہ ممکن ہوگا۔ ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس نئے پروسیسر کی آمد سے کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور اینٹرپرائز مین فریم سسٹمز کی لچک میں اضافہ ہوگا۔ آئی بی ایم مستقبل کے کلاؤڈ اور اے آئی ورک لوڈز کے لیے اس چپ کو ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہی ہے۔ اس انقلابی چپ کی باقاعدہ دستیابی اور سسٹمز میں انضمام کے حوالے سے مزید تفصیلات جلد منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔