LIVE
Loading Breaking News...

ایران کے خلاف امریکی پابندیاں: اسکاٹ بیسنٹ کا نیا معاشی منصوبہ

News Image
امریکہ کے نئے خزانہ سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ نے ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ایران ماضی کی طرح شیل کمپنیوں اور چین کے ساتھ تعلقات کے ذریعے ان پابندیوں کے اثرات سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
واشنگٹن میں امریکی محکمہ خزانہ کے نئے سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ نے ایران اور اس سے معاشی و تجارتی روابط رکھنے والے ممالک کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان پابندیوں کا بنیادی مقصد تہران پر معاشی دباؤ میں اضافہ کرنا اور اس کے مالیاتی ذرائع کو محدود کرنا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا تدریجی طریقہ کار ان کی فوری اثر انگیزی کو کمزور کر سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے اٹھائے گئے یہ قدم سخت تو نظر آتے ہیں لیکن ان کی نوعیت فوری اور جامع نتائج دینے کی بجائے سست رو ہے۔ اس حوالے سے معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران ماضی میں بھی اس قسم کی پابندیوں کا سامنا کامیابی سے کر چکا ہے۔ تہران نے فرنٹ کمپنیوں، خفیہ تجارتی نیٹ ورکس اور بالخصوص چین کے ساتھ مضبوط معاشی و تجارتی تعلقات کا سہارا لے کر امریکی پابندیوں کے اثرات کو ناکام بنایا ہے۔ اس تناظر میں اصل سوال یہ ہے کہ ایران اس نئی امریکی حکمت عملی پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ چین کے ساتھ ایران کا مسلسل بڑھتا ہوا تجارتی حجم اور خام تیل کی برآمدات تہران کو معاشی سہارا فراہم کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں ایران کے تیل کی رسد کو مکمل طور پر روکنا امریکی حکام کے لیے ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے، اور اس بار بھی یہی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ مجموعی طور پر، اگرچہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس معاشی منصوبے کا مقصد تہران کی اقتصادی حالت کو تسلسل کے ساتھ زوال پذیر کرنا ہے، لیکن جب تک بین الاقوامی برادری اور بالخصوص ایشیائی خریدار ان پابندیوں کی مکمل پاسداری نہیں کرتے، ایران کے خلاف ان اقدامات کی کامیابی سوالیہ نشان رہے گی۔ عالمی برادری اب یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا نئی امریکی انتظامیہ ان پابندیوں کو سختی سے نافذ کر پائے گی یا ایران ایک بار پھر اپنے معاشی راستے نکالنے میں کامیاب ہو جائے گا۔