LIVE
Loading Breaking News...

پنجاب سیلاب اپڈیٹ: جی ٹی روڈ اور گردونواح کے دیہات زیرِ آب، امدادی سرگرمیاں تیز

News Image
صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں حالیہ سیلاب سے درجنوں دیہات اور ہزاروں ایکڑ زرعی زمین زیرِ آب آ گئی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں اور راشن کی تقسیم کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے آنے والے دنوں میں مشرقی ندی نالوں میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
صوبہ پنجاب کے اضلاع لاہور اور شیخوپورہ کے سرحدی علاقوں میں حالیہ سیلابی ریلوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیاں پوری رفتار سے جاری ہیں۔ فیروزوالہ، مریدکے اور کالا شاہ کاکو کے قریب جی ٹی روڈ کے دونوں جانب واقع 94 سے زائد دیہات اور بستیاں پانی میں ڈوب گئی ہیں، جس سے نظامِ زندگی شدید متاثر ہوا ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں ایک ہزار سے زائد مکانات اور ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی سیلاب کی زد میں آ چکی ہے، جبکہ متاثرہ مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے انخلاء کے لیے کشتیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ پانی میں گھرے ہوئے افراد کو باحفاظت نکالا جا سکے جبکہ پولیس کو بھی شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ افراد کے لیے متعدد ریلیف اور میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں ہزاروں مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے اور متاثرہ خاندانوں میں راشن بیگز تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ فیروزوالہ اور مریدکے کے ندی نالوں بشمول بھید اور دیگ میں پانی کی سطح میں کمی کے آثار بھی دکھائی دے رہے ہیں جس سے مقامی لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ تاہم محکمہ موسمیات اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن (ایف ایف ڈی) نے آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کر رکھا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ چند روز کے دوران بالائی علاقوں میں یا میدانی حصوں میں موسلا دھار بارشیں ہوئیں تو دریائوں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ ایک بار پھر بڑھ سکتا ہے۔ ایف ایف ڈی کے مطابق دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر کے مقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ راوی، چناب، جہلم، ستلج اور کابل میں پانی کی سطح فی الحال نسبتاً کم ہے مگر ندی نالوں میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔ لاہور کے کمشنر اور شیخوپورہ کے ڈپٹی کمشنر نے متاثرہ علاقوں کا مسلسل دورہ کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کا خود جائزہ لیا ہے۔ ضلعی افسران کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے تمام متعلقہ محتے متحرک ہیں اور ڈی واٹرنگ سیٹس کے ذریعے جمع ہونے والے پانی کو نکالنے کا کام بھی جاری ہے۔ مقامی مکینوں نے انتظامیہ کی جانب سے ریلیف کی فراہمی اور امدادی کارروائیوں میں بہتری کو سراہا ہے، تاہم شہریوں میں آئندہ کی ممکنہ بارشوں اور سیلاب کے خدشات کے پیشِ نظر تاحال تشویش پائی جاتی ہے۔