Business
میشو کے ٹیکس تنازعات میں تین گنا اضافہ، مالی سال 26 کی رپورٹ جاری
معروف ای کامرس کمپنی میشو کے ٹیکس تنازعات میں مالی سال 2025-26 کے دوران تین گنا سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کمپنی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق انکم ٹیکس حکام کے ساتھ زیر التوا تنازعات کی مجموعی رقم 2,071.8 کروڑ روپے تک جا پہنچی ہے۔
معروف ای کامرس کمپنی 'میشو' (Meesho) کے ٹیکس تنازعات میں رواں مالی سال 2025-26 کے دوران تین گنا سے زائد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انکم ٹیکس حکام کے ساتھ زیر التوا تنازعات کی مجموعی مالیت اب 2,071.8 کروڑ بھارتی روپے تک پہنچ چکی ہے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک سنسنی خیز اضافہ ہے۔
سالانہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق، ٹیکس حکام کی جانب سے کمپنی پر مختلف ٹیکس مطالبات اور نوٹسز جاری کیے گئے ہیں جن کے خلاف میشو نے قانونی اور آئینی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ کمپنی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام نوٹسز اور مالیاتی مطالبات کا تکنیکی جائزہ لے رہی ہے اور اپنے قانونی ماہرین کے مشورے سے متعلقہ اپیلٹ اتھارٹیز کے سامنے اپنا موقف مضبوطی سے پیش کر رہی ہے۔
میشو، جو کہ بنیادی طور پر چھوٹے تاجروں، ریٹیلرز اور انفرادی فروخت کنندگان کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، حالیہ عرصے میں تیزی سے ترقی کرنے والی ای کامرس کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ تاہم، ٹیکس اصلاحات اور ای کامرس شعبے پر عائد سخت مالیاتی قوانین کی وجہ سے کمپنی کو مختلف نوعیت کے پیچیدہ ٹیکس چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق اتنی بڑی رقم کا ٹیکس تنازع کمپنی کی مالیاتی پوزیشن اور مستقبل کی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ای کامرس انڈسٹری کے معاشی تجزئیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تکنیکی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ٹیکس حکام کی کڑی نظر ہے، اور میشو کے اس حالیہ انکشاف نے ای کامرس سیکٹر میں ٹیکس تعمیل اور قانونی پیچیدگیوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کمپنی کا عزم ہے کہ وہ تمام قانونی راستے اپنا کر اپنے فنڈز اور تاجروں کے مفادات کا تحفظ کرے گی۔