World
غزہ میں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی اور نئی رکاوٹیں
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں اپنے زمینی بیریئرز اور حدود کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے، جس کی وجہ سے فلسطینی خاندانوں کی جبری بے دخلی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور زمینی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ متفقہ 'یلو لائن' سے تجاوز کرتے ہوئے زیتون کے باغات اجاڑے گئے ہیں اور نئی عمارات کو مسمار کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر مٹی کے اونچے بیریئرز اور عارضی حدود کا دائرہ کار مزید وسیع کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے طویل عرصے تک اس خطے پر قبضے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی فورسز کو ایک مخصوص لائن یعنی 'یلو لائن' تک محدود ہونا تھا، جس کے تحت وہ غزہ کے 53 فیصد رقبے پر قابض تھیں۔ تاہم، حالیہ رپورٹس اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج اس حد بندی سے کہیں آگے نکل چکی ہے اور اب تقریباً 85 فیصد سرحد پر مٹی کے اونچے قلعے اور رکاوٹیں قائم کی جا چکی ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر اور تصدیق شدہ ویڈیوز سے انکشاف ہوا ہے کہ خان یونس، دیر البلح، رفح، جبالیہ اور بیت لاحیا میں یلو لائن کی مقررہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے زرعی زمینیں صاف کی گئی ہیں، زیتون کے صدیوں پرانے باغات کو تہس نہس کر دیا گیا ہے اور درجنوں عمارتوں کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں پہلے سے ہی بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور انہیں ایک بار پھر اپنے خیمہ بستیوں اور عارضی پناہ گاہوں سے نکلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مقامی رہائشیوں اور اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق، غزہ کے مختلف علاقوں جیسے کہ الحفہ اور زیتون میں اسرائیلی فوج نے پیش قدمی کرتے ہوئے مرکزی سڑکوں پر بھی کنکریٹ کے بلاکس اور مٹی کے بیریئرز نصب کر دیے ہیں۔ شمالی غزہ کے رہائشیوں نے بتایا کہ فوجی گاڑیوں کی گولہ باری اور ڈرون سرگرمیوں کے سائے میں ان کے بچ جانے والے شیلٹرز بھی چھین لیے گئے ہیں اور وہاں نئے فوجی اڈے قائم کیے جا رہے ہیں۔ حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں نے اس عمل کو معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ حفاظتی اقدامات دراندازی کو روکنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس مسلسل اور بڑھتی ہوئی پیش قدمی نے غزہ کے محصور عوام کے لیے زندگی کو مزید اجن کر دیا ہے اور وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی بچی کھچی زمینوں کو بھی کھو رہے ہیں۔