LIVE
Loading Breaking News...

چین کی خلائی ٹیکنالوجی میں نجی شعبے کا داخلہ، جی سپیس کو سیٹلائٹ آئی او ٹی کی منظوری

News Image
چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جیلی کے زیر اہتمام جی سپیس ٹیکنالوجی کو سیٹلائٹ انٹرنیٹ آف تھنگز کے دو سالہ کمرشل ٹرائل کی اجازت دے دی ہے۔ یہ اقدام چین کی خلائی ٹیکنالوجی کی صنعت میں نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے ایک تاریخی پیشرفت تصور کیا جا رہا ہے۔
چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MIIT) نے ایک اہم پالیسی فیصلے کے تحت نجی شعبے کو سیٹلائٹ انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کی خدمات فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سلسلے میں جیلی گروپ کے زیر انتظام کام کرنے والی کمپنی 'ژجیانگ جی سپیس ٹیکنالوجی' (Zhejiang Geespace Technology) کو دو سالہ کمرشل ٹرائل کرنے کا لائسنس جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے اپنی خلائی ٹیکنالوجی کی مارکیٹ کو سرکاری اجارہ داری سے نکال کر نجی سرمایہ کاروں کے لیے کھولا ہے۔ یہ فیصلہ چین کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی خلائی معیشت میں ایک نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔ جی سپیس کو ملنے والی یہ منظوری کمپنی کو اس قابل بنائے گی کہ وہ سیٹلائٹ کے ذریعے ڈیٹا ٹرانسمیشن، زرعی نگرانی، لاجسٹک ٹریکنگ اور دیگر صنعتی ایپلی کیشنز کے لیے اپنی کمرشل خدمات کا آغاز کر سکے۔ اس سے قبل چین کی خلائی سرگرمیاں مکمل طور پر ریاستی اداروں کے کنٹرول میں تھیں، تاہم اب بیجنگ حکومت ٹیکنالوجی کے شعبے میں مسابقت بڑھانے کے لیے نجی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ جی سپیس، جو جیلی ہولڈنگ گروپ کی ذیلی کمپنی ہے، پہلے ہی کم زمین کے مدار (LEO) میں اپنے سیٹلائٹ بھیجنے کے حوالے سے ایک مستحکم انفراسٹرکچر رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام چین کی عالمی سطح پر سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے شعبے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔ سیٹلائٹ آئی او ٹی کے ذریعے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں بھی انٹرنیٹ رابطے فراہم کرنا ممکن ہو سکے گا جہاں فائبر آپٹک یا زمینی ٹاورز نصب کرنا ناممکن ہے۔ دو سالہ ٹرائل کے دوران جی سپیس اپنی ٹیکنالوجی کی کارکردگی اور کمرشل صلاحیتوں کو ثابت کرے گی، جس کے بعد حکومت مزید نجی کمپنیوں کو اس میدان میں داخلے کی اجازت دینے پر غور کر سکتی ہے۔ یہ پیشرفت چین کے اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد 'اسپیس سلک روڈ' تشکیل دینا ہے، تاکہ ڈیٹا اور مواصلاتی رابطوں میں خود انحصاری حاصل کی جا سکے۔ عالمی منڈی میں ایلن مسک کی اسٹار لنک جیسے بڑے ناموں کے مقابلے میں چینی کمپنیوں کا داخلہ مسابقت کو مزید بڑھائے گا۔ جی سپیس کا یہ کمرشل تجربہ آنے والے دنوں میں نہ صرف چین بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں اہم تبدیلیاں لانے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔