Technology
نوکیا کا چین سے اہم فیصلہ: ٹیلی کام انڈسٹری کی تقسیم اور 6G ٹیکنالوجی میں اینویڈیا کی انٹری
فن لینڈ کی نامور ٹیلی کام کمپنی نوکیا نے چین میں اپنے دو دہائیوں سے جاری آپریشنز کو سمیٹتے ہوئے رواں سال کے اختتام تک تمام دفاتر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس انخلا کے ساتھ ہی عالمی ٹیلی کام مارکیٹ میں جغرافیائی اور سیاسی تقسیم گہری ہو گئی ہے جبکہ اینویڈیا جیسے ادارے 6G اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں بڑی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
فن لینڈ سے تعلق رکھنے والی معروف ٹیلی کام الات بنانے والی کمپنی نوکیا نے سرزمینِ چین سے مکمل انخلا کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں تک چین میں نیٹ ورک انفراسٹرکچر کی تعمیر اور خدمات فراہم کرنے کے بعد، کمپنی رواں سال کے اختتام تک اپنے تمام باقی ماندہ دفاتر اور آپریشنل سائٹس کو بند کر دے گی۔ نوکیا کا یہ قدم عالمی سطح پر ٹیلی کام انڈسٹری میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل اور تکنیکی تقسیم کا ایک واضح ثبوت ہے، جس سے مغربی اور چینی تکنیکی نظاموں کے درمیان فاصلے مزید بڑھ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق نوکیا کے اس فیصلے کی بنیادی وجوہات میں چین کی مقامی کمپنیوں جیسے کہ ہواوے (Huawei) اور زیڈ ٹی ای (ZTE) کی طرف سے شدید مسابقت، چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تکنیکی کشیدگی، اور مغربی ممالک میں سیکورٹی خدشات شامل ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے چین نے اپنے مقامی 5G نیٹ ورکس کی تعمیر کے لیے مقامی سپلائرز کو ترجیح دی ہے، جس کی وجہ سے نوکیا اور دیگر غیر ملکی کمپنیوں کا مارکیٹ شیئر تیزی سے کم ہوا ہے۔ نوکیا کے انخلا سے اب چینی مارکیٹ پر مکمل طور پر مقامی کمپنیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔
دوسری جانب، جہاں روایت پسندی پر مبنی ٹیلی کام کمپنیاں مشکلات کا شکار ہیں، وہاں اینویڈیا (Nvidia) جیسی معروف چِپ ساز کمپنی نے اگلی نسل کی 6G ٹیکنالوجی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کو ضم کرنے پر بڑا داؤ لگا دیا ہے۔ اینویڈیا کا ماننا ہے کہ مستقبل کے 6G نیٹ ورکس کو صرف روایتی ہارڈ ویئر سے نہیں بلکہ سافٹ ویئر پر مبنی اے آئی ماڈلز سے چلایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے کمپنی عالمی ٹیلی کام شراکت داروں کے ساتھ مل کر نئے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے تاکہ نیٹ ورک کی رفتار اور کارکردگی کو ایک نئی بلندی پر پہنچایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوکیا کا چین سے نکلنا اور اینویڈیا کی 6G میں آمد عالمی ٹیلی کام کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اب دنیا دو واضح بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ایک طرف چین کا اپنا الگ تکنیکی ایکو سسٹم ہوگا جبکہ دوسری طرف مغربی ممالک اینویڈیا اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر اے آئی سے لیس 6G نیٹ ورکس تیار کریں گے۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال سے عالمی سمارٹ فون اور ٹیلی کام نیٹ ورکس کے آئندہ مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔