LIVE
Loading Breaking News...

ایران پاکستان گیس پائپ لائن تنازعہ: حکومت کا اہم قدم

News Image
حکومت پاکستان نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور ثالثی کے عمل سے نمٹنے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ فیصلہ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر ممکنہ بھاری جرمانوں سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت پاکستان نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے میں برسوں سے جاری تعطل کو ختم کرنے اور اسے بین الاقوامی ثالثی کے خطرات سے نکالنے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس پیش رفت سے متعلق قومی اسمبلی اور سینیٹ کو آگاہ کر دیا گیا ہے، جہاں حکومتی حکام نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے تاخیر کا شکار اس منصوبے پر کام شروع نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو اب بین الاقوامی سطح پر ممکنہ بھاری جرمانوں کا سامنا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر یہ ہنگامی اقدام اٹھایا گیا ہے۔ نئی تشکیل دی گئی کمیٹی کا بنیادی مقصد ایران کے ساتھ جاری سفارتی اور تکنیکی مذاکرات کو تیز کرنا اور پائپ لائن کی تعمیر میں حائل قانونی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، کمیٹی کے ارکان منصوبے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے جس میں گیس کی قیمت، تعمیراتی اخراجات اور عالمی پابندیوں سے بچنے کے طریقے شامل ہیں۔ وزیر اعظم کی جانب سے اس کمیٹی کا قیام اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ حکومت اس توانائی منصوبے کو فعال بنانے کے لیے سنجیدہ ہے تاکہ ملک میں گیس کی قلت کو دور کیا جا سکے اور صنعتی شعبے کو درپیش بحرانوں پر قابو پایا جا سکے۔ ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پاکستان کے طویل مدتی توانائی سیکیورٹی پلان کا حصہ ہے، تاہم اس کی تکمیل میں کئی سیاسی اور جیو پولیٹیکل چیلنجز حائل رہے ہیں۔ خاص طور پر عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے باعث اس منصوبے پر کام کی رفتار انتہائی سست رہی۔ اب جبکہ پائپ لائن معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کی صورت میں پاکستان پر بھاری جرمانوں کی تلوار لٹک رہی ہے، یہ کمیٹی قانونی اور تکنیکی ماہرین کی مدد سے ایسی راہ تلاش کرے گی جو ملکی مفادات کا تحفظ کرے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے بھی بچ سکے۔ کمیٹی کی جانب سے اپنی رپورٹ اور سفارشات جلد پیش کیے جانے کا امکان ہے جس کے بعد حکومت اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ قوم اس منصوبے کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے دور میں یہ پائپ لائن ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اعلیٰ سطحی فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ پاکستان توانائی کے بحران سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے اور توانائی کے متبادل اور سستے ذرائع تک رسائی حاصل کر سکے۔