Pakistan
پاکستان نیپال براہ راست پروازیں: دوطرفہ تعلقات اور تجارت کے فروغ کی نئی کوشش
پاکستان اور نیپال کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے براہ راست ہوائی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس اہم اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سیاحت اور عوامی سطح پر روابط میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
پاکستان اور نیپال کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر، دانیال نے دونوں برادر ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کے فوری آغاز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوائی رابطے کی عدم موجودگی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سیاحتی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سلسلے میں سفارتی اور ایوی ایشن کی سطح پر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ دونوں اقوام کو قریب لایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اسلام آباد اور کاٹھمنڈو کے درمیان براہ راست ہوائی رابطے قائم ہونے سے تجارتی برادری کو بے حد سہولت میسر آئے گی۔ اس وقت کاروباری افراد اور عام مسافروں کو تیسرے ممالک کے ذریعے طویل اور مہنگا سفر کرنا پڑتا ہے جس سے نہ صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ سفر کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ براہ راست پروازوں سے تجارتی مال کی آمدورفت میں تیز رفتاری آئے گی اور باہمی اقتصادی شعبے میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
سیاحت اور عوامی روابط کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور نیپال دونوں ہی قدرتی خوبصورتی، بلند و بالا پہاڑی سلسلہ ہائے اور تاریخی ثقافتی ورثے سے مالا مال ہیں۔ نیپالی باشندے پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور گندھارا تہذیب کے مقامات میں دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ پاکستانی سیاحوں کے لیے نیپال ایک بہترین سیاحتی منزل ثابت ہو سکتا ہے۔ براہ راست پروازوں کے ذریعے سیاحت کو فروغ دے کر دونوں ممالک ایک دوسرے کی معیشت میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین سول ایوی ایشن حکام اور ایئر لائنز کے درمیان مذاکرات کو تیز کیا جانا چاہیے تاکہ عملدرآمد کی راہ ہموار ہو۔ اگر یہ پروازیں جلد شروع کر دی جاتی ہیں تو اس سے سفر کا وقت اور اخراجات کم ہوں گے، جبکہ تعلیمی، ثقافتی اور سفارتی سطح پر بھی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں حکومتیں اس تجویز پر سنجیدگی سے عملدرآمد کے لیے فوری اقدامات کریں گی۔