LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کے سات ٹریلین ڈالر کے معدنی ذخائر اور پانی کے بحران پر اہم انکشافات

News Image
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سات ٹریلین ڈالر سے زائد کے معدنی وسائل موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر کے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سات ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، جنہیں بروئے کار لا کر ملک کی معاشی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر کان کنی کے منصوبوں کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور طویل وقت درکار ہوتا ہے، تاہم ملک میں سیاسی عدم استحکام اور اتار چڑھاؤ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت میکرو اکنامک استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور امریکہ سمیت دیگر غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان کے شعبہ کان کنی میں سرمایہ کاری کے لیے دعوت دے رہی ہے۔ اس موقع پر احسن اقبال نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ستّر سال پرانا یہ معاہدہ ماضی میں ہونے والی تمام جنگوں کے باوجود قائم رہا، مگر اب بھارت پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرکے پاکستان کے زرعی شعبے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر پر تیزی سے کام کر رہی ہے، جس سے تقریباً چھ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کو پانی کی فراہمی میں اسٹریٹجک بفر ملے گا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ اب ملک کی توجہ جیو پولیٹکس سے ہٹ کر جیو اکنامکس پر مرکوز ہے، جسے 'اڑان پاکستان' اور '5 ای' اسٹریٹجی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو روایتی سیکیورٹی محور سے نکال کر معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چین کے ساتھ دوستی کی قیمت پر نہیں ہوگا۔ چین کو پاکستان کا ایک 'قابل اعتماد شراکت دار' قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں چین نے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے پاکستان میں توانائی کے شدید بحران کو ختم کیا اور انفراسٹرکچر، شاہراہوں اور گوادر پورٹ کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔