Politics
قومی اسمبلی اجلاس: ایجنڈا مؤخر، نئے صوبوں اور فنڈز کی تقسیم پر بحث
قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران قانون سازوں نے قانون سازی کے بجائے زیادہ تر وقت اپنے حلقوں کے مسائل اٹھانے میں صرف کیا، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے 58 نکاتی ایجنڈا مؤخر کر دیا۔ اجلاس کے دوران ایم این اے شرمیلا فاروقی نے فنڈز کی غیر مساوی تقسیم اور اپوزیشن نے نئے صوبوں اور خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہنگامہ خیز اور غیر پیداواری رہا جہاں قانون سازوں نے ایوان کی کارروائی کے دوران 58 نکاتی ایجنڈے پر پیش رفت کرنے کے بجائے اپنا زیادہ تر وقت پوائنٹس آف آرڈر کے تحت اپنے اپنے حلقہ جات کے مقامی مسائل اٹھانے میں صرف کیا۔ ڈپٹی اسپیکر غلام شاہ نے ایک مبہم اتفاق رائے کا حوالہ دیتے ہوئے پرائیویٹ ممبرز کے 20 بلوں سمیت پورا 58 نکاتی ایجنڈا مؤخر کر دیا، جس پر اپوزیشن جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) کی رکن عالیہ کامران نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی سے اس حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ ایوان میں صرف طبی کالجوں کی زائد فیسوں اور ضلع لیہ میں دریا بردگی سے متعلق دو توجہ دلاؤ نوٹسز زیر غور آئے، جبکہ عید میلاد النبی کے موقع پر ایک متفقہ قرار داد بھی منظور کی گئی۔
اجلاس کے دوران حکومتی ارکان کی عدم موجودگی کے باوجود اراکین نے قومی و علاقائی نوعیت کے متعدد اہم مسائل پر کھل کر گفتگو کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین نے کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ پی پی پی کی رکن شرمیلا فاروقی نے وفاقی حکومت کی ترقیاتی ترجیحات میں عدم مساوات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مالی وسائل کی کمی کا عذر پیش کرتی ہے لیکن لاہور ساہیوال بہاولنگر موٹروے کے لیے 49 ارب روپے جاری کر دیے گئے، جبکہ حیدرآباد سکھر موٹروے کے اہم منصوبے کے لیے صرف 30 ارب روپے جاری کیے گئے جو سندھ کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔
اجلاس میں ملک میں خواتین پر بڑھتے ہوئے تشدد اور قتل کے واقعات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ راولپنڈی میں حنا جاوید کے قتل اور ہری پور میں پانچ سالہ آیت نور کے دردناک قتل کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے اراکین بابر نواز اور شائستہ خان نے خیبر پختونخوا حکومت کی خاموشی پر سوالات اٹھائے اور ملوث ملزمان کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے اراکین نے سابق وزیراعظم عمران خان کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں طبی معائنے کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر احتجاج کیا، تاہم اپوزیشن اراکین کی تقریروں کو قومی اسمبلی کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بلیک آؤٹ کر دیا گیا۔
نئے صوبوں کے قیام کی بحث بھی ایوان میں شدت اختیار کر گئی۔ پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ایوان میں آ کر نئے صوبوں کے معاملے پر پالیسی بیانیہ دینے کا مطالبہ کیا اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان پر تنقید کی کہ ملک کا سسٹم ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رکن بابر نواز نے کہا کہ ہزارہ کے عوام موجودہ سیٹ اپ کے تحت نہیں رہنا چاہتے اور علیحدہ صوبے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تاریخ کے مطابق ہزارہ، چترال اور سوات کبھی بھی خیبر پختونخوا کا حصہ نہیں رہے۔ قومی اسمبلی کا اگلا اجلاس اب جمعہ کی صبح 11 بجے منعقد ہو گا۔