LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں عارضی سمندری راہداری: ایران اور عمان کا منصوبہ

News Image
ایران اور عمان نے امریکہ کے ساتھ جاری شدید کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے ایک عارضی بحری راہداری کے منصوبے پر بات چیت کی ہے۔ اس قدم کا مقصد امریکی پابندیوں اور علاقائی تعطل کے باوجود عالمی توانائی کی فراہمی اور سمندری تجارت کو ممکن بنانا ہے۔
تہران اور مسقط کے مابین ہونے والے اہم سفارتی رابطوں کے بعد ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں ایک عارضی سمندری راہداری قائم کرنے کا خاکہ پیش کیا ہے۔ یہ قدم امریکہ کے ساتھ جاری سفارتی تعطل اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی سمندری تجارت اور تیل کی فراہمی کو بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے اس عارضی بحری راہداری کے فریم ورک پر تفصیلی بات چیت کی ہے جس کا بنیادی مقصد کشیدگی کے دوران تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا اور خطے کے توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران پر نئی اور سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں جس کے جواب میں ایران نے بھی شدید ردعمل ظاہر کرنے کا عزم کیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تعطل کی وجہ سے عالمی سطح پر انرجی کی منڈیوں میں بے یقینی کی لہر دوڑ گئی تھی، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ عمان نے طویل عرصے سے خطے میں ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور اس عارضی منصوبے کا مقصد خطے کو کسی بھی بڑے معاشی بحران اور ممکنہ تصادم سے بچانا ہے۔ عالمی برادری اور سمندری تجارت کے اداروں نے اس مجوزہ عارضی راہداری پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ اگرچہ اس منصوبے کی حتمی تفصیلات ابھی مکمل طور پر عام نہیں کی گئی ہیں، لیکن دفاعی و معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کی یہ مشترکہ کوششیں بحری جہاز رانی کو درپیش خطرات کو نمایاں طور پر کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ تہران کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساحلی حدود کی حفاظت کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ مسقط نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔ اس دوران، امریکی پابندیوں کی نئی لہر نے دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی معیشت اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کی امریکی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا اور ہر ممکن طریقے سے اس کا مقابلہ کرے گا۔ تاہم، عارضی تجارتی راہداری کا یہ منصوبہ اس بات کا اشارہ ہے کہ شدید سفارتی اور ملٹری کشیدگی کے باوجود، اقتصادی راستوں کو کھلا رکھنے کی سفارتی کوششیں تہران اور مسقط کی جانب سے مسلسل جاری ہیں۔