LIVE
Loading Breaking News...

لاہور جمخانہ کلب میں بحران: چار کنوینرز کے استعفوں کی تفصیلات

News Image
لاہور جمخانہ کلب میں سیاسی جوڑ توڑ اور مبینہ گروہ بندی کے باعث چار کنوینرز نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مستعفی ہونے والے ارکان کا کہنا ہے کہ کلب کے اندر پائی جانے والی سیاست ان کے اصولوں سے میل نہیں کھاتی۔
شہر کے معروف اور تاریخی کلب 'لاہور جمخانہ' میں گزشتہ کچھ عرصے سے جاری اندرونی خلفشار اور سیاسی رسہ کشی اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب انتظامی باڈی کے چار اہم کنوینرز نے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ استعفے کلب کے اندر ہونے والی مبینہ 'لوٹا کریسی' یا سیاسی جوڑ توڑ کے خلاف ایک احتجاجی اقدام کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ مستعفی ہونے والے ارکان نے اپنی قیادت اور دیگر ممبران کے رویوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس سے کلب کے اندر پائی جانے والی گہری تقسیم واضح ہو گئی ہے۔ اس معاملے سے واقف قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کلب کے اندر کچھ عرصے سے دو دھڑے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، جس کا اثر کلب کے روزمرہ کے انتظامی امور پر بھی پڑ رہا ہے۔ استعفیٰ دینے والوں کا ماننا ہے کہ جس طرح سے کلب کے اندر فیصلہ سازی کی جا رہی ہے، وہ جمہوریت اور کلب کے اخلاقی معیارات کے منافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عہدوں پر موجود افراد اپنے مفادات کے لیے سیاسی وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں، جو کلب جیسے باوقار ادارے کی ساکھ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ادھر لاہور جمخانہ کی انتظامیہ کی جانب سے ان استعفوں کے بعد فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم کلب کے دیگر ارکان میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ ممبران کا مطالبہ ہے کہ اس بحران کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ کلب کا پرسکون ماحول بحال ہو سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی گروہ بندی سے نہ صرف انتظامی امور متاثر ہوتے ہیں بلکہ کلب کے وقار کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کلب کی مرکزی باڈی اس صورتحال پر کیا ردعمل دیتی ہے اور کیا ان استعفوں کے بعد انتظامیہ میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ کلب کے ضوابط کے تحت اب ان خالی ہونے والی نشستوں پر نئے انتخابات یا تقرریوں کا عمل شروع کرنا ایک بڑی چیلنج بن چکا ہے۔ لاہور جمخانہ کی تاریخ میں یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہاں کے انتخابات اور سیاسی عمل ہمیشہ سے ہی شہر کی اشرافیہ اور بااثر حلقوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔