Pakistan
پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام: صوبائی اسمبلیوں میں بحث کا نیا مطالبہ
پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکینِ صوبائی اسمبلی نے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے سنجیدہ ایوانی بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکمرانی میں بہتری اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے لیے اس معاملے پر جامع قومی حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر نئے صوبوں کے قیام کی بحث شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکینِ صوبائی اسمبلی نے اس اہم معاملے پر تفصیلی اور سنجیدہ ایوانی بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ نمائندگانِ عوام کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی مشکلات کے پیش نظر نئے صوبوں کی تشکیل اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ اس سلسلے میں استحکام پاکستان پارٹی اور دیگر سیاسی فریقین کی جانب سے بھی نئے صوبوں کے قیام کے حق میں آوازیں بلند کی جا رہی ہیں تاکہ عوامی مسائل کو مقامی سطح پر فوری طور پر حل کیا جا سکے اور صوبائی خود مختاری کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔ تجزیہ کاروں اور سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان میں ماضی کے تجربات اور تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی انتہائی ضروری ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سمیت دیگر علاقوں میں انتظامی امور کی انجام دہی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے دور دراز کے اضلاع کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے سے نہ صرف سرکاری مشینری کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ صوبائی دارالحکومتوں پر بڑھتا ہوا دباؤ بھی کم ہو سکے گا۔ اس اقدام سے مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت اور رفتار میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب، کچھ سیاسی حلقے اس بحث کو محض سیاسی شعبدہ بازی یا انتخابی نعرہ بھی قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں اکثر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کے بعد اس معاملے کو پسِ پشت ڈال دیتی ہیں اور صرف انتخابی فائدے کے لیے نئے صوبوں کا کارڈ استعمال کرتی ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو صرف سیاسی نعرے بازی تک محدود رکھنے کے بجائے آئینی اور قانون ساز اداروں میں ٹھوس قانون سازی کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ اگر تمام تر سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر آئینی ترمیم کی جانب قدم بڑھائیں تو یہ اقدام ملک کی پائیدار ترقی اور انتظامی بہتری کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔