LIVE
Loading Breaking News...

این ایچ ایس جنسی استحصال کے بالغ متاثرین کی مدد میں ناکام

News Image
برطانوی ماہرین نفسیات نے ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) بچپن میں جنسی استحصال کا شکار ہونے والے افراد کو بالغ ہونے پر مناسب طبی اور نفسیاتی امداد فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایسے متاثرین کو دہائیوں سے بدانتظامی اور غفلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
برطانیہ کے ماہرین نفسیات کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک انتہائی اہم اور چشم کشا رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) بچپن میں جنسی استحصال کا شکار ہونے والے افراد کو بالغ ہونے کے بعد مناسب معاونت اور علاج فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایسے افراد کو طویل عرصے سے طبی نظام کی نااہلی اور بدانتظامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ جو لوگ بچپن میں اس نوعیت کے المناک تجربات سے گزرتے ہیں، جب وہ بالغ ہونے پر مدد یا علاج کے لیے رجوع کرتے ہیں تو نظام ان کی ضروریات کو سمجھنے اور بروقت امداد فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دہائیوں پر محیط اس غفلت اور بدانتظامی نے متاثرین کے مصائب میں مزید اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ طبی عملہ اس حوالے سے درکار حساسیت اور مہارت سے محروم نظر آتا ہے۔ ماہرین نفسیات نے مطالبہ کیا ہے کہ این ایچ ایس کے اندر اس شعبے کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ اس میں طبی عملے کی خصوصی تربیت اور متاثرین کے لیے الگ سے مؤثر کونسلنگ اور تھراپی کے مراکز کا قیام شامل ہونا چاہیے تاکہ ایسے افراد کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر وقت پر درست اقدامات نہ کیے گئے تو یہ متاثرین تاحمر ذہنی اور جسمانی مشکلات کا شکار رہ سکتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔