World
لاکربی بم دھماکہ: مقدمے سے بری ہونے والا لیبی شہری السمین فھیمہ انتقال کر گیا
لاکربی بم دھماکے کے ہائی پروفائل مقدمے میں عدالت کی طرف سے بری کیے جانے والے لیبی شہری السمین خلیفہ فھیمہ ستر برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ لیبیئن ایئر لائنز نے فیس بک پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
لاکربی بم دھماکے کے مقدمے میں قانونی جنگ لڑنے اور عدالت کی جانب سے بری ہونے والے لیبی شہری السمین خلیفہ فھیمہ ستر برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کے انتقال کی تصدیق لیبیئن ایئر لائنز کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ بیان میں کی گئی، جس میں مرحوم کے اہل خانہ سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ السمین خلیفہ فھیمہ کا نام دنیا بھر میں اس وقت سرخیوں میں آیا جب ان پر سنہ 1988 میں پیش آنے والے ہولناک لاکربی بم دھماکے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس مقدمے نے بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے اور طویل عرصے تک یہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہا تھا۔ سنہ 2001 میں نیدر لینڈز میں ہونے والے ایک خصوصی اسکاٹش عدالت کے ٹرائل کے دوران السمین خلیفہ فھیمہ کو الزامات سے بری کر دیا گیا تھا، جب کہ ان کے شریک ملزم عبدالباسط المقراحی کو سزا سنائی گئی تھی۔ اس بریت کے بعد فھیمہ کے لیے وطن واپسی کی راہیں ہموار ہوئیں اور وہ طویل عرصہ لیبیا میں ہی مقیم رہے۔ ان کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے چاہنے والوں اور لیبیئن ایئر لائنز کے حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے، جہاں انہیں ایک محنتی اور پیشہ ور شخص کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔ لیبیا کے مختلف حلقوں اور ان کے عزیز و اقارب کی جانب سے ان کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کیا گیا ہے۔