World
سوڈان کردفان حملہ، باغی کارروائی میں بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک
سوڈان کے علاقے جنوبی کردفان میں باغی تنظیم ایس پی ایل ایم این کے حملوں کے نتیجے میں چار بچوں سمیت ستائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹروں کے ایک نیٹ ورک نے اس المیے کی تصدیق کرتے ہوئے خطے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سوڈان کے شورش زدہ علاقے جنوبی کردفان میں باغی تنظیم سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ نارتھ (SPLM-N) کے وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں چار بچوں سمیت کم از کم ستائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس بات کی تصدیق سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے کی ہے جو ملک میں جاری طبی اور انسانی صورتحال پر کڑی نظر رکھتا ہے۔ نیٹ ورک کے مطابق حالیہ پرتشدد کارروائیوں نے ایک بار پھر عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور مقامی آبادی شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔
حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ حملے جنوبی کردفان کے مختلف دیہات اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ حملوں میں جاں بحق ہونے والوں میں معصوم بچوں سمیت خاندان کے افراد شامل ہیں، جن کی ہلاکتوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور طبی عملے کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے اپنے بیان میں اس بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ سوڈان میں گزشتہ کئی ماہ سے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان اقتدار کی کشمکش کی وجہ سے پہلے ہی خانہ جنگی کی صورتحال بنی ہوئی ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ مختلف علاقائی محاذوں پر باغی گروہوں کی سرگرمیاں بھی عام شہریوں کے لیے عذاب بنی ہوئی ہیں۔ جنوبی کردفان کا خطہ طویل عرصے سے تنازعات کی زد میں رہا ہے جہاں سکیورٹی کے ناقص انتظامات اور فریقین کے مابین جھڑپوں کے باعث عام لوگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوڈان کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر خون خرابہ بند کریں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ دوسری جانب متاثرہ علاقوں میں زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ مسلسل لڑائی اور سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے امدادی ٹیمیں اور ڈاکٹرز وہاں تک بروقت رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ طبی عملے نے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوڈانی عوام کی جانیں بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کریں۔