LIVE
Loading Breaking News...

انسٹاگرام کے سربراہ کی میٹا ٹرائل میں گواہی اور انکشافات

News Image
میٹا کے خلاف نوجوان صارفین کو ذہنی صحت کے خطرات کے باوجود پلیٹ فارمز کا عادی بنانے کے مقدمے کی سماعت جاری ہے۔ انسٹاگرام کے سربراہ نے عدالت میں گواہی دی ہے کہ بہت کم نوجوانوں نے اس حفاظتی فیچر کا استعمال کیا۔
نیکسٹورا نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا جائنٹ میٹا کے خلاف جاری ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران انسٹاگرام کے سربراہ نے عدالت میں گواہی دی ہے۔ یہ مقدمہ اس الزام کے تحت چلایا جا رہا ہے کہ میٹا کے پلیٹ فارمز نے نوجوان صارفین کی ذہنی صحت کو خطرے میں ڈال کر انہیں جان بوجھ کر اپنا عادی بنایا۔ سماعت کے دوران کئی اہم حقائق سامنے آئے ہیں جو سوشل میڈیا کمپنیوں کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔ گواہی کے دوران عدالت میں بتایا گیا کہ کمپنی کی جانب سے نوجوان صارفین کی حفاظت کے لیے جو اقدامات اور فیچرز متعارف کروائے گئے تھے، ان کا استعمال توقع سے کہیں زیادہ کم رہا۔ انسٹاگرام کے سربراہ نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ پلیٹ فارم پر موجود مخصوص حفاظتی فیچرز کو نو عمر صارفین میں خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی اور بہت ہی کم تعداد میں نوجوانوں نے ان سے استفادہ کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ کمپنیاں نوجوانوں کی حفاظت کے نام پر صرف کاغذی کارروائی کرتی ہیں جبکہ حقیقی بنیادوں پر ایسا کوئی موثر نظام موجود نہیں ہوتا جو کم عمر صارفین کو ڈیجیٹل خطرات سے بچا سکے۔ اس مقدمے نے پوری ٹیک انڈسٹری میں ہلچل مچا دی ہے اور قانون ساز بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ضوابط کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ والدین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ انسٹاگرام اور دیگر ایپس کم عمر ذہنوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اس عدالتی کارروائی کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے ضوابط اور پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی اداروں کی جوابدہی کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جا रहा ہے۔