World
شام کی جمہوری فورسز ایس ڈی ایف کی تحلیل اور اس کے اسباب
شام میں داعش کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے والی شام کی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) نے اپنے خاتمے اور تحلیل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کو شام کے سیاسی اور عسکری منظر نامے میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
شام کی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف)، جنہوں نے ماضی میں دہشت گرد تنظیم داعش (ISIL) کے خلاف زمینی جنگ میں سب سے نمایاں اور قائدانہ کردار ادا کیا تھا، نے اب باضابطہ طور پر خود کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس تنظیم کے خاتمے کی خبر نے خطے کی سیاست اور سیکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے کیونکہ یہ فورسز طویل عرصے تک بین الاقوامی اتحاد کی اہم اتحادی رہی ہیں۔
شامی جمہوری فورسز بنیادی طور پر کرد اور عرب ملیشیاز پر مشتمل ایک عسکری اتحاد تھا جس نے شمالی اور مشرقی شام کے بڑے حصوں کو شدت پسند تنظیم کے قبضے سے آزاد کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس طویل اور خونریز جنگ میں ایس ڈی ایف کو امریکہ سمیت مغربی ممالک کی بھرپور عسکری اور مالی معاونت حاصل رہی، جس کی بدولت انہوں نے داعش کی خلافت کو جغرافیائی طور پر شکست دینے میں کامیابی حاصل کی۔
مبصرین کے مطابق، اس عسکری اتحاد کا تحلیل ہونا شام کے مستقبل کے لیے دور رس نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ ملک میں جاری طویل خانہ جنگی اور بدلتی ہوئی علاقائی حرکیات کے تناظر میں، ان فورسز کا خاتمہ مقامی آبادی، حکومت اور دیگر بین الاقوامی فریقین کے مابین طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔ آئندہ دنوں میں اس فیصلے کے خطے پر مرتب ہونے والے اثرات مزید واضح ہوں گے۔