World
اسرائیلی رکن پارلیمنٹ عوفر کسیف کو فلسطینی گھر جانے سے روک دیا گیا
اسرائیلی فوجیوں نے قابض مغربی کنارے میں ایک فلسطینی خاندان کے گھر جانے والے کنیست کے رکن عوفر کسیف کو روک دیا۔ یہ واقعہ مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں پیش آیا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں پیش آنے والے ایک کشیدہ واقعے کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے کنیست (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے واحد یہودی بائیں بازو کے عرب مخالف رکن عوفر کسیف کو ایک فلسطینی خاندان کے محاصرے میں گھرے ہوئے گھر تک پہنچنے سے زبردستی روک دیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب علاقے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور فلسطینی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عوفر کسیف اس فلسطینی خاندان سے اظہارِ یکجہتی اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وہاں پہنچے تھے، تاہم سکیورٹی فورسز نے انہیں راستے میں ہی روک دیا۔
ذرائع کے مطابق عوفر کسیف نے سکیورٹی فورسز کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پارلیمانی استحقاق اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندے ہونے کے ناطے انہیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے حالات کا مشاہدہ کریں، خاص طور پر جب ایسے خاندانوں کو محاصرے اور جبری بے دخلی کا سامنا ہو۔ انہوں نے قابض افواج کے رویے کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ علاقہ سکیورٹی زون کے تحت آتا ہے اور وہاں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سیاسی شخصیات کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ قدم مبینہ حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔ تاہم، اس واقعے کے بعد انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور اسے آزادیِ اظہار اور جمہوری اقدار پر ایک اور کاری ضرب قرار دیا جا رہا ہے۔