World
سوڈان الابيض مہاجرین کیمپ پانی کا بحران
سوڈان کے علاقے الابيض میں جنگ کی وجہ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ پانی کے اس بحران نے کیمپوں میں مقیم مہاجرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
سوڈان میں جاری طویل جنگ اور اندرونی کشمکش نے لاکھوں شہریوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، سوڈان کے شہر الابيض میں واقع مہاجرین کے کیمپوں میں رہنے والے بے گھر خاندان اس وقت تاریخ کی بدترین پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ جنگ کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے ان افراد کے لیے صاف پانی کی عدم دستیابی نے زندگی کو انتہائی تکلیف دہ بنا دیا ہے۔ الابيض کے ان کیمپوں میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے، اور پانی کی یہ غیراعلانیہ بندش یا قلت لوگوں کے لیے روزمرہ کے امور انجام دینا ناممکن بناتی جا رہی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں پینے کا صاف پانی حاصل کرنے کے لیے کئی کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے یا پھر غیر محفوظ ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے بیماریوں کے پھیلنے کے خطرات بھی دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ مقامی فلاحی تنظیموں اور امدادی اداروں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو الابيض کے ان کیمپوں میں پانی کی کمی انسانی المیے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ بے گھر ہونے والے یہ افراد پہلے ہی جنگ کے خوف اور مالی مشکلات کا شکار ہیں، اور اب پینے کے پانی جیسی بنیادی ضرورت کا فقدان ان کی مشکلات میں بے پناہ اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوڈان کے اس علاقے میں فوری امداد پہنچائیں تاکہ پناہ گزینوں کو اس عذاب سے نجات دلائی جا سکے۔