World
موہن بھاگوت کا نیویارک دورہ، میئر زہران ممڈانی کا سخت ردعمل
نیویارک کے میئر زہران ممڈانی نے شہر میں ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے خطاب کے پروگرام سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی تنظیمیں ایک خصوصی اور اقلیتوں کے لیے نابرابر نظریہ رکھتی ہیں۔
نیویارک کے میئر زہران ممڈانی نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ اپنے شہر میں منعقد ہونے والے اس متوقع پروگرام کی حمایت نہیں کرتے جس میں بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی سرپرست تنظیم کے رہنما شرکت کر رہے ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت مینہیٹن میں اتوار کے روز منعقد ہونے والے ایک پروگرام سے خطاب کرنے والے ہیں۔ میئر زہران ممڈانی جو کہ نیویارک کے پہلے مسلم اور بھارتی نژاد میئر ہیں، نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگرچہ وہ اس ریلی کی حمایت نہیں کرتے لیکن وہ اس بات سے بھی ناواقف ہیں کہ شہر کے پاس اس قسم کے کسی نجی پروگرام کو منسوخ کرنے کا کوئی قانونی اختیار موجود ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کا جو تصور ان کے خاندان نے سکھایا اور جس میں وہ پروان چڑھے، وہ ایک کثیر الثقافتی اور سیکولر جمہوریہ کا نظریہ تھا جہاں ہر شخص کی برابری اور شمولیت کا یقین پایا جاتا تھا۔ اس پس منظر میں ایک ایسی تحریک کا ابھرنا حد درجہ تشویشناک ہے جو کہ اخراج اور تعصب کے نظریے پر مبنی ہے۔ پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق اس تقریب کو اگست کے اواخر میں 'یونیورسل ونیس سیلیبریشن' کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد ہندو امریکی کمیونٹی کو اکٹھا کرنا ہے۔ تقریب کے منتظمین کا مؤقف ہے کہ یہ ایونٹ مختلف ہندو امریکی گروہوں کی حمایت سے منعقد ہو رہا ہے اور اس کا مقصد مشترکہ ورثے اور بین المذاہب رواداری کا فروغ ہے۔ تاہم دوسری جانب کئی مقامی تنظیموں نے موہن بھاگوت کی شرکت اور آر ایس ایس کی متنازعہ تاریخ کے پیش نظر اس کی شدید مذکت کی ہے۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن کے مطابق آر ایس ایس دہائیوں تک اقلیتی برادریوں کے خلاف شدت پسندی اور عدم برداشت کے واقعات میں ملوث رہی ہے۔ دوسری طرف آر ایس ایس ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے خود کو ایک تہذیبی اور ثقافتی تحریک قرار دیتی ہے جس کا مقصد ہندوؤں کو متحد کرنا ہے۔ دریں اثنا، اقوام متحدہ اور متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ بھارتی حکومت نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی پالیسیاں بلا تفریق تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر سودمند ہیں۔