LIVE
Loading Breaking News...

آئی پی پیز کی کوئله خریداری میں عدم شفافیت، صارفین پر بوجھ

News Image
آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) پر درآمدی کوئلے کی خریداری میں عدم شفافیت اور مہنگے داموں کے ذریعے بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کا انکشاف ہوا ہے۔ پاور ڈویژن اور نیپرا نے اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے اصلاحی اقدامات اور نئی پالیسی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔
اسلام آباد میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق درآمدی کوئلے پر چلنے والے آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کی جانب سے کوئلے کی خریداری کے غیر شفاف اور غیر مؤثر طریقوں کے ذریعے بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ اس معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین کو بھاری بھرکم اخراجات منتقل کیے جا رہے تھے۔ پاور ڈویژن اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اب اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کوئلے کی خریداری میں پائی جانے والی خامیوں اور اس کے صارفین پر پڑنے والے منفی اثرات کی نشاندہی کی ہے۔ یہ پورا معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب جامشورو پاور پلانٹ کے لیے کوئلے کی فراہمی کی مسابقتی بولی کے دوران ایک کراچی کے سپلائر کی جانب سے 7.12 ڈالر فی ٹن تک کی نمایاں رعایت دی گئی، جبکہ اس کے مقابلے میں آئی پی پیز کے بعض معاہدوں میں یہ رعایت صرف 20 سے 50 سینٹ فی ٹن تک محدود تھی۔ پاور ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ پاور پلانٹس کی جانب سے درآمدی کوئلے کی خریداری میں سنگین نوعیت کی غفلت اور عدم شفافیت پائی گئی ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے اور عام صارفین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس حوالے سے نئی پالیسی گائیڈ لائنز جاری کی جا چکی ہیں جن پر سختی سے عمل درآمد کروا کر قومی خزانے کو سالانہ 380 ملین روپے تک کی بچت کی جا سکتی ہے۔ نیپرا نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں پورٹ قسیم الیکٹرک پاور کمپنی (پی کیو ای پی سی) کے چھ سالہ کوئلہ خریداری کے معاہدے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا جس میں انتہائی کم رعایتیں دی گئی تھیں۔ ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ پلانٹ نے اس ٹینڈر کی تشہیر کے لیے بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر جانے کے بجائے صرف چین میں اشتہار دیا، جس کی وجہ سے زیادہ مسابقتی ماحول نہیں بن سکا۔ مزید برآں، نیپرا نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پلانٹ نے طویل مدتی کوئلہ سپلائی کے معاہدے کے حوالے سے تمام حقائق ریگولیٹر سے چھپائے۔ ان تمام امور کے پیش نظر، نیپرا نے پورٹ قسیم پلانٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر نئے سرے سے طویل مدتی کوئلہ سپلائی معاہدے کے لیے کھلی بولی کا عمل منعقد کرے۔ تاہم، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی اور ریگولیٹری فیصلوں کے باوجود متعلقہ کمپنی نے نئے ٹینڈرز سے قبل ہی بڑے پیمانے پر مہنگا کوئلہ خرید کر ذخیرہ کر لیا جس سے قومی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت کئی ایسے بڑے پاور پلانٹس کام کر رہے ہیں جو درآمدی کوئلے پر انحصار کرتے ہیں، جن میں پورٹ قسیم، حب پاور اور ساہیوال کے کارخانے بھی شامل ہیں۔ ماہرین اور صارفین کے حقوق کے ادارے طویل عرصے سے اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے خام مال بالخصوص کوئلے اور فرنس آئل کی خریداری میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام آدمی کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ پاور منسٹر کی زیر صدارت ہونے والے حالیہ اجلاسوں میں بھی ان امور پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مسابقتی اور شفاف طریقہ کار کو اپنائیں تاکہ کسی بھی قسم کے غیر ضروری مالی بوجھ سے بچا جا سکے۔