World
امریکہ پناہ گزینوں کے ویزے منسوخ کرے گا، ٹرمپ انتظامیہ کا سخت قدم
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ سیاحت یا کاروبار کے بہانے امریکہ آنے والے اور مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواست دینے والے افراد کے ویزے منسوخ کرنے جا رہا ہے۔ ویزا کا حصول کوئی حق نہیں بلکہ ایک مراعات ہے، اور اس پالیسی سے تقریباً دو لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکی حکومت نے سیاحتی یا کاروباری ویزے پر امریکہ آنے والے اور بعد ازاں مستقل قیام کے لیے سیاسی پناہ کی درخواست دینے والے غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگوٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ویزا حاصل کرنے کے بعد سیاسی پناہ کی درخواست دینا ایک طرح کا فریب اور دھوکہ ہے، جو کہ ویزا منسوخی کی واضح قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ملک میں غیر قانونی اور قانونی دونوں قسم کی ہجرتی لہروں کو کم کرنے کی جاری مہم کا حصہ ہے۔ وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں اشارہ دیا ہے کہ اس پالیسی سے تقریباً دو لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں، جسے تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی ویزا منسوخی قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ محکمہ خارجہ نے اس مخصوص تعداد کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل متحرک ہے اور مرحلہ وار بنیادوں پر جاری رہے گا۔ جنوری 2025 میں صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک مختلف جرائم اور قوانین کی خلاف ورزیوں پر تقریبا 175,000 غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ انتظامیہ اس کے ساتھ ساتھ ویزا درخواست دہندگان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی کڑی جانچ پڑتال کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ ترجمان نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ بات اب واضح کی جا رہی ہے کہ امریکہ کا ویزا ملنا کوئی بنیادی حق نہیں بلکہ ایک خصوصی مراعات ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تارکین وطن اور ویزا پالیسیوں پر سخت گیر اقدامات کو قانونی محاذ پر بھی چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں بعض عدالتوں نے پابندی کے احکامات کو روکا بھی ہے۔ اس کے باوجود ویزا قوانین کو سخت تر بنانے اور غیر ملکیوں کی جانچ پڑتال کا دائرہ کار وسیع کرنے کا عمل پوری رفتار سے جاری ہے۔