LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور ایران کشیدگی: پاکستان اور عمان کی ثالثی سے مذاکرات میں پیش رفت

News Image
امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے اور خلیجی خطے میں امن بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں۔ پاکستان اور عمان کی ثالثی سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مثبت پیش رفت متوقع ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی کو کم کرنے اور خلیجی خطے میں امن کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز کے نازک امور پر ایک مرحلہ وار سمجھوتہ طے پا گیا ہے، جس کا مقصد اس اہم آبی گزرگاہ پر بحری جہازوں کی آمدورفت کو محفوظ بنانا ہے۔ دونوں فریقین کے مابین طے پانے والے اس انتظآم کے تحت ایک عارضی مشترکہ بحری کوریڈور کا قیام، بارودی سرنگوں کا خاتمہ، معلومات کا تبادلہ اور ٹریفک کا انتظام شامل ہے، جو خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے بیک وقت تہران کے دوروں نے اس تنازع کے حل کے لیے ایک نئی اور قابل عمل راہ ہموار کی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، واشنگٹن میں بھی اس بات پر آمادگی پائی جاتی ہے کہ اگر ایران کچھ مخصوص شرائط پوری کر دے تو اقتصادی پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کلیدی اور انتہائی مؤثر ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، جسے ایرانی قیادت کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے پاکستانی وفد کے اس دورے کو انتہائی ثمر آور اور قیمتی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی ان پس پردہ بات چیت کے اثرات واشنگٹن کے رویے میں بھی واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ حال ہی میں اعلان کردہ امریکی پابندیاں توقع سے زیادہ نرم قرار دی جا رہی ہیں، اور ٹرمپ انتظامیہ نے خلیجی ریاستوں پر کسی بھی نئے حملے کے نہ ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں، تاہم دونوں جانب سے بحران کو مزید عسکری رنگ دینے کے بجائے سفارتی ذرائع سے معاملات کو سلجھانے کی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرینڈنگ (MoU) کے تحت طے پانے والی شرائط پر واپس جانے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن پہلے ان مطالبات اور سمجھوتوں کی پاسداری کرے جن کی خلاف ورزی کا تہران شاکی ہے۔ آبنائے ہرمز کا تنازع اب محض ایک سمندری مسئلہ نہیں رہا بلکہ اسے اقتصادی پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے بھی جوڑ دیا گیا ہے۔ عمان اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات اور سفارتی سطح پر پاکستان کی مسلسل کوششیں اس بات کا غماز ہیں کہ آنے والے دنوں میں خلیجی خطے میں کشیدگی کے بادل چھٹنے اور پائیدار امن کی بحالی کی امیدیں دوبارہ زندہ ہو رہی ہیں۔