Technology
پاکستان میں ہیم ریڈیو کا استعمال: آفات کے دوران رابطہ کاری
پاکستان امیچور ریڈیو سوسائٹی کے ارکان طویل عرصے سے قدرتی آفات اور ہنگامی حالات کے دوران مواصلاتی نظام بیٹھ جانے پر ریڈیو کے ذریعے اہم پیغامات پہنچاتے ہیں۔ یہ رضاکارانہ تنظیم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے لائسنس کے تحت پیشہ ورانہ انداز میں کام کرتی ہے۔
جب سن دو ہزار پانچ میں تباہ کن زلزلہ آیا تو اسلام آباد سے دو افراد اپنے سامان کے ساتھ آزاد کشمیر کی طرف روانہ ہوئے۔ کوہاٹ پل تک سڑک ٹوٹ چکی تھی، جہاں سے انہوں نے پیدل اور موٹر سائیکلوں پر سفر کرتے ہوئے مظفر آباد کا رخ کیا۔ وہاں ریسکیو پندرہ کی عمارت نصف گر چکی تھی اور ٹیلی فون لائنز مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھیں۔ ان رضاکاروں نے پولیس کی مدد سے ایک تباہ شدہ گاڑی کی بیٹری نکالی، اس کے ساتھ ریڈیو ٹرانسیور منسلک کیا اور اسلام آباد کے لیے پیغامات کی ترسیل شروع کر دی۔ اگلے چند دنوں میں انہوں نے ریڈیو کے ذریعے تقریباً تین ہزار پیغامات بھیجے جن میں زیادہ تر اموات اور زندہ بچ جانے والوں کی تصدیق شامل تھی۔ یہ افراد پاکستان امیچور ریڈیو سوسائٹی یعنی PARS سے وابستہ تھے جو سن انیس سو ستر سے فعال ہے۔ ہیم ریڈیو کا یہ نظام ان حالات میں انتہائی اہم ثابت ہوتا ہے جب باقی تمام مواصلاتی ذرائع کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہیم ریڈیو کی تاریخ انیسویں صدی کے آخر تک جاتی ہے اور پاکستان میں بھی قیام پاکستان سے پہلے سے یہ سرگرم رہا ہے۔ انیس سو چالیس کی دہائی کے اواخر سے یہاں اس کے ریکارڈ موجود ہیں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے باقاعدہ طور پر اس کی نگرانی کرتی ہے۔ پاکستان میں ہیم ریڈیو چلانے کے خواہشمند افراد کو کم از کم سولہ سال کی عمر کا ہونا لازمی ہے اور انہیں پہلے شارٹ ویو لسنر کے طور پر تربیت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ سکیورٹی کلیئرنس اور امتحان کے بعد پی ٹی اے کی طرف سے ایک منفرد کال سائن جاری کیا جاتا ہے۔ آج اس سوسائٹی کے پاس تقریباً چھ سو فعال ارکان موجود ہیں جن میں انجینئرز، ڈاکٹرز، اور مسلح افواج کے افراد شامل ہیں۔ اس کے اراکین اسے محض ایک شوق نہیں بلکہ ایک قومی اور فلاحی خدمت قرار دیتے ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قوم کے کام آتی ہے۔