World
اسرائیلی رکن پارلیمنٹ کا مغربی کنارے میں یادگار پر حملہ اور UNRWA مرکز پر کارروائی
اسرائیلی پارلیمنٹ کے ایک انتہا پسند رکن نے فوج کی موجودگی میں مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں مدامہ میں فلسطینیوں کی ایک یادگار کو ہتھوڑے سے توڑ دیا۔ دوسری جانب، اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے (UNRWA) کے تربیتی مرکز کو بھی خالی کرانا شروع کر دیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم اور قانون شکنی کے ایک اور واقعے میں، دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک اسرائیلی قانون ساز نے فوجی حصار میں ایک فلسطینی یادگار کو ہتھوڑے سے مسمار کر دیا۔ یہ واقعہ منگل کے روز شمالی مغربی کنارے کے گاؤں مدامہ میں پیش آیا، جہاں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی رکنِ پارلیمنٹ اور سیٹلر زیوی سوکوٹ نے فلسطینی شہداء کی یاد میں بنائی گئی یادگار پر ہتھوڑے چلائے جبکہ اسرائیلی فوجی خاموشی سے قریب ہی موجود رہے۔ اس غیر قانونی اقدام کے بعد اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ مذکورہ رکن اور اس کے ساتھیوں نے سیکیورٹی گارڈز کی موجودگی میں اس علاقے کا دورہ کیا تھا، لیکن انہوں نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی سے کام لیتے ہوئے اور اجازت کے بغیر یادگار کو توڑنا شروع کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ایک قابلِ مذمت عمل ہے، خاص طور پر جب اس میں عوامی شخصیات ملوث ہوں۔ دریں اثنا، اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے مقبوضہ بیت المقدس کے نواح میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے 'انروا' (UNRWA) کے ایک تربیتی مرکز کو بھی زبردستی خالی کروانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ ادارہ 1952 سے قائم ہے اور ہر سال سینکڑوں فلسطینی نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتا ہے۔ اسرائیلی وزراء کی جانب سے اس کارروائی کو تاریخی کامیابی قرار دیا گیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے اس ادارے کو مسلسل ہدف بنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، مغربی کنارے کے علاقے میں اسرائیلی آباد کاروں نے صحافیوں پر بھی حملہ کیا جو ان کشیدہ حالات کی کوریج کر رہے تھے۔ بیت المقدس کے قریب پیش آنے والے اس پرتشدد واقعے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے، جبکہ صحافیوں کی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی اور قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔