LIVE
Loading Breaking News...

چینی یوآن کی قدر میں اضافہ، امریکی ڈالر کے مقابلے میں بہتری

News Image
بدھ کے روز چینی یوآن امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہو کر 6.7829 پر بند ہوا۔ پیپلز بینک آف چین کی جانب سے شرح مبادلہ میں ردوبدل کے بعد مارکیٹ میں نئی ہلچل دیکھی گئی ہے۔
بدھ کے روز بین الاقوامی کرنسی مارکیٹ میں چینی یوآن کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی، اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یوآن مضبوط ہو کر 6.7829 فی ڈالر پر آ گیا۔ خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق، یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب چینی مرکزی بینک یعنی پیپلز بینک آف چین نے مارکیٹ کے رجحانات اور کرنسی کی تیز رفتار اونچی پرواز کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران یوآن نے گزشتہ ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح کے قریب سفر کیا ہے، تاہم مرکزی بینک کی جانب سے اشاروں کے بعد اس میں معمولی ردوبدل بھی دیکھا گیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، چین نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران یوآن کی قدر میں غیر معمولی اضافے کو روکنے کے لیے سب سے سخت اقدامات کیے ہیں تاکہ برآمدات متاثر نہ ہوں۔ اس کے باوجود، بین الاقوامی مالیاتی ادارے جیسے کہ یو او بی (UOB) اب بھی مستقبل میں یوآن کی مزید مضبوطی کی توقع کر رہے ہیں اور انہوں نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کا ہدف 6.7000 مقرر کیا ہے۔ دوسری طرف، اس معاشی صورتحال کے اثرات دیگر ایشیائی اور آسٹریلوی کرنسیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں جہاں آسٹریلوی ڈالر (AUD) میں نرمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ مالیاتی منڈی کے شرکاء اس تمام صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ چین کی معیشت اور کرنسی کی پالیسی عالمی تجارت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ پیپلز بینک آف چین کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر طے کی جانے والی ریفرنس ریٹ اب 6.7829 مقرر کی گئی ہے جبکہ گزشتہ روز یہ 6.7852 تھی۔ سرمایہ کار اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں چین کی اقتصادی پالیسیاں عالمی کرنسی مارکیٹ میں کیا نیا رخ اختیار کرتی ہیں۔