World
سوڈان کی جنگ: آر ایس ایف کی شکست کے بعد ملک میں مزید کشیدگی کا خدشہ
سوڈان کی فوج کی حالیہ جنگی کامیابیاں ایک ایسے مسلح اتحاد پر منحصر ہیں جسے مشترکہ دشمن کے خاتمے کے بعد قابو رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ملک میں خانہ جنگی کے مزید ٹکڑے ہونے کا خدشہ ہے۔
سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی ممکنہ شکست سے ملک میں امن قائم نہیں ہوگا بلکہ اس سے تنازعہ مزید مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔ سوڈانی فوج کی حالیہ جنگی کامیابیوں کا انحصار ایک ایسے مسلح اتحاد پر ہے جسے فوج کے لیے مشترکہ دشمن کے ختم ہونے کے بعد سنبھالنا انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں فوج اور اس کے اتحادیوں کے درمیان وقتی تعاون تو جاری ہے لیکن طویل المدتی بنیادوں پر یہ اتحاد متضاد مفادات کا شکار ہو سکتا ہے۔ جب آر ایس ایف کا خطرہ ٹل جائے گا تو مختلف مسلح گروہ سیاسی اثر و رسوخ اور وسائل پر قبضے کے لیے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ سکتے ہیں، جس سے ملک میں مزید انارکی پھیلنے کا خدشہ ہے۔
بین الاقوامی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کا بحران صرف دو فریقین کے درمیان طاقت کی کشمکش نہیں ہے بلکہ یہ مقامی اور قبائلی مفادات کا ایک پیچیدہ جال ہے۔ اگر فوج عسکری محاذ پر فتح حاصل بھی کر لیتی ہے تو سیاسی استحکام کے حصول کے لیے اسے انتہائی کٹھن اور طویل عمل سے گزرنا ہوگا تاکہ ملک کو مزید ٹوٹ پھوٹ سے بچایا جا سکے۔