LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ثانوی پابندیاں: ایران کے تجارتی شراکت داروں کے لیے مشکلات

News Image
امریکہ نے ان ممالک کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنے کی دھمکی دی ہے جو تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ کو مزید سخت کرنا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے ممالک کو خبردار کیا گیا ہے کہ انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے شراکت داروں کو دی جانے والی دھمکیوں کے بعد ایک بار پھر 'ثانوی پابندیوں' (Secondary Sanctions) کا موضوع عالمی سطح پر زیر بحث ہے۔ یہ ایک ایسا سخت معاشی ہتھیار ہے جسے امریکہ طویل عرصے سے اپنے جیوسیاسی اہداف کے حصول کے لیے استعمال کرتا آ رہا ہے۔ ثانوی پابندیوں کا بنیادی مقصد کسی مخصوص ملک کو تنہا کرنا اور اس کی معیشت کو مفلوج کرنا ہوتا ہے۔ روایتی پابندیوں کے تحت صرف اس ملک کے ساتھ براہ راست تجارت پر پابندی ہوتی ہے جس پر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو اعتراض ہو۔ تاہم، ثانوی پابندیوں کا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ وسیع اور خطرناک ہوتا ہے۔ اس کے تحت امریکہ دنیا بھر کے ان تمام تجارتی شراکت داروں، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بناتا ہے جو بلیک لسٹ کیے گئے ملک کے ساتھ کسی بھی قسم کا کاروباری لین دین جاری رکھتے ہیں۔ اس عمل کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی یورپی، ایشیائی یا کسی بھی خطے کا ملک یا فرم ایران کے ساتھ تجارت کرتی ہے، تو وہ امریکی مالیاتی نظام سے کٹ سکتی ہے۔ امریکہ ان اداروں پر بھی جرمانے عائد کر سکتا ہے اور انہیں ڈالر کیش کے استعمال سے محروم کر سکتا ہے۔ چونکہ عالمی تجارت کا بڑا حصہ امریکی ڈالر میں ہوتا ہے، اس لیے کوئی بھی بڑی بین الاقوامی کمپنی یا بینک امریکی مارکیٹ اور ڈالر کی سہولت سے محروم ہونے کا خطرہ مول لینے سے گریز کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ثانوی پابندیوں کی دھمکی محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک مؤثر معاشی دباؤ ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان پابندیوں کے نفاذ سے ایران کی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے تہران کے لیے تیل اور دیگر اشیا کی برآمدات کے راستے مزید محدود ہو جائیں گے۔ دوسری طرف، ان ممالک کے لیے شدید مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں جن کے ایران کے ساتھ روایتی توانائی یا تجارتی تعلقات ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کی صورت میں عالمی منڈی اور بین الاقوامی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔