LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کا خبروں پر اثر اور صحافت کے لیے چیلنجز

News Image
مصنوعی ذہانت کے سسٹمز خبروں کو سمیٹا کر صارفین کے سامنے پیش کر رہے ہیں جس سے اصل ذرائع اور درستگی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس رجحان سے دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستان کے روایتی میڈیا اور صحافتی اداروں کو بھی شدید معاشی اور معلوماتی چیلنجز کا سامنا ہے۔
حال ہی میں آئی فونز پر ظاہر ہونے والی ایک نوٹیفکیشن نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی جس میں غلط دعویٰ کیا گیا کہ یونائیٹڈ ہیلتھ کیئر کے چیف ایگزیکٹو برائن تھامسن کے قتل کے ملزم لوئی مانگیون نے خود کو گولی مار کر ہلاک کر لیا ہے۔ حقیقت میں وہ زندہ تھے اور حراست میں تھے جبکہ بی بی سی نے ایسی کوئی خبر شائع نہیں کی تھی۔ ایپل انٹیلی جنس نے بی بی سی کی کئی نوٹیفکیشنز کو ملا کر ایک خلاصہ بنایا اور غلط بیان میں تبدیل کر دیا۔ شکایت کے بعد ایپل نے نیوز ایپس کے نوٹیفکیشن خلاصے عارضی طور پر معطل کر دیے۔ یہ واقعہ محض ایک غلطی نہیں تھا بلکہ اس نے اس بڑے مسئلے کو اجاگر کیا کہ اے آئی خبروں کے اصل پس منظر کو بدل سکتا ہے۔ اب لوگ روایتی سرچ انجن یا صحافیوں کی بجائے اے آئی اسسٹنٹس سے اہم سوالات پوچھتے ہیں کہ انتخابات میں کیا ہوا یا جنگ کیوں شروع ہوئی۔ سرچ انجن بھی مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں تھے مگر صارف اصل رپورٹس تک پہنچ کر ذرائع کا خود جائزہ لے سکتا تھا۔ اس کے برعکس مصنوعی ذہانت مواد پڑھتی ہے، اس کا خلاصہ کرتی ہے اور اپنی مرضی کا ورژن پیش کرتی ہے۔ یورپی براڈکاسٹنگ یونین اور بی بی سی کی ایک تحقیق کے مطابق چار بڑے اے آئی اسسٹنٹس کے 3 ہزار سے زائد جوابات میں سے 45 فیصد میں اہم مسائل پائے گئے جن میں 31 فیصد سورسنگ کے سنگین مسائل اور 20 فیصد بڑی غلطیاں شامل تھیں۔ اس صورتحال کا ایک بڑا معاشی پہلو بھی ہے جو روایتی میڈیا کو متاثر کر رہا ہے۔ روایتی سرچ سسٹمز میں قاری خبر کی ویب سائٹ تک جاتا تھا جس سے اشتہارات یا سبسکرپشن کی قدر پیدا ہوتی تھی، لیکن اے آئی اسسٹنٹس مواد نچوڑ کر صارف کو اپنے پاس ہی رکھتے ہیں۔ پیو ریسرچ کے مطابق اے آئی خلاصہ آنے پر صارفین کے خبروں کے لنکس پر کلک کرنے کا امکان تقریباً نصف رہ جاتا ہے۔ رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے مطابق پبلشرز توقع کرتے ہیں کہ اگلے تین سالوں میں سرچ ٹریفک میں 43 فیصد کمی واقع ہوگی۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے جہاں صحافت پہلے ہی کمزور معیشت، فنڈز کی کمی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔ زیادہ تر پبلشرز کے پاس سبسکرپشن کا نظام نہیں ہے اور نہ ہی وہ اے آئی سسٹمز کے تکنیکی اثرات سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ اگرچہ یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ جیسے قوانین نے کچھ حفاظتی اقدامات متعارف کرائے ہیں، لیکن پاکستان کو بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے فوری لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ پاکستانی خبر رساں اداروں کو تکنیکی کمپنیوں کے ساتھ اجتماعی طور پر بات چیت کرنی چاہیے تاکہ واضح انتساب، درستگی اور معاشی معاوضے کو یقینی بنایا جا سکے ورنہ صحافت کا مستقبل شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔