LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان کو ریلیف: سیاسی بیانات نہ دینے کی مشروط فہم پر اتفاق

News Image
ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو ملاقاتوں میں مزید ریلیف کی فراہمی بعض شرائط سے مشروط کی گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت انہیں میڈیا سے گفتگو اور کسی بھی قسم کے سیاسی بیانات جاری نہ کرنے کی سخت ہدایت دی گئی ہے۔
اسلام آباد (نیکسریا نیوز اردو) ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل یا ان کی حراست کے دوران ملاقاتوں میں مزید ریلیف فراہم کرنے کا معاملہ طے پا گیا ہے، تاہم یہ ریلیف مکمل طور پر بعض مخصوص شرائط اور ایس او پیز کی پاسداری سے مشروط کیا گیا ہے۔ اس پیشرفت کے تحت یہ بات طے پئی ہے کہ اگر ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا تو ملاقاتیوں کے حوالے سے پابندیوں میں نرمی لائی جائے گی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے میں اس بات کو بنیادی شرط بنایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کی جانب سے یا ان کی طرف سے میڈیا کے سامنے کسی بھی قسم کی سیاسی گفتگو، پریس کانفرنس یا اشتعال انگیز سیاسی بیانات جاری نہیں کیے جائیں گے۔ حال ہی میں نورین خانم کی عمران خان سے چند دنوں کے اندر دوسری ملاقات بھی اسی پس منظر میں سامنے آئی ہے، جہاں ان امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیاسی حلقوں میں اس پیشرفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے بانی کی جانب سے ماضی میں میڈیا میں آنے والے بیانات اور پریس کانفرنسز سیاسی ماحول میں گرمی پیدا کرتی رہی ہیں۔ اب دیکھنے میں یہ آئے گا کہ آیا پارٹی قیادت اور متعلقہ حلقوں کے درمیان طے پانے والی اس مبینہ فہم پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں مستقبل میں سیاسی کشیدگی میں کتنی کمی واقع ہوتی ہے۔