Pakistan
پنجاب پولیس حراست میں خواتین کی ہلاکت اور منشیات کا انکشاف
پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ پولیس حراست میں مرنے والی دونوں خواتین کے جسم سے نو مختلف اقسام کی منشیات پائی گئی ہیں۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق ان خواتین کی موت کی اصل وجہ منشیات کا زہر بن جانا ہے جبکہ تفتیش میں تشدد کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
لاہور میں سنٹرل پولیس آفس میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس نے پولیس حراست میں جاں بحق ہونے والی دو خواتین کے حوالے سے انتہائی اہم اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں خواتین کے پوسٹ مارٹم اور فرانزک ٹیسٹ کے دوران ان کے جسموں سے نو مختلف اقسام کی منشیات کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جو ان کی اچانک ہلاکت کا سبب بنی۔ پولیس حکام کے مطابق اس واقعے کی شفاف اور جامع تحقیقات کے لیے فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ دونوں خواتین کی موت کی بنیادی وجہ ان کے جسم میں منشیات کا حد سے زیادہ اور زہریلا اثر جمع ہو جانا یعنی کمبائنڈ ڈرگ ٹاکسسٹی تھی۔ اس طبی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد معاملے کی نوعیت مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے اور اب تفتیش کار اس زاویے پر کام کر رہے ہیں کہ یہ منشیات ان خواتین تک کیسے اور کن ذرائع سے پہنچیں۔ آئی جی پنجاب نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ ابتدائی اور گہرائی سے کی جانے والی تفتیش کے دوران تفتیش کاروں کو ایسا کوئی شواہد نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ زیر حراست خواتین پر کسی قسم کا جسمانی تشدد کیا گیا ہو۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پولیس اس معاملے کی تہہ تک جائے گی اور اس بات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی کہ آیا یہ منشیات خواتین نے خود استعمال کی تھیں یا حراست میں آنے سے پہلے اور دوران حراست انہیں کسی نے فراہم کی تھیں۔ اس واقعے کے بعد محکمہ پولیس نے حراستی مراکز میں سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار اور پراسرار واقعات سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب، مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عوامی حلقے اس واقعے کی منصفانہ عدلیہ کی نگرانی میں مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔