Pakistan
پمز اسپتال اسلام آباد نرسری وارڈ آگ، 15 نوزائیدہ بچے جاں بحق
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے گائنی وارڈ کی نرسری میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 15 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
اسلام آباد کے سب سے بڑے طبی مرکز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے گائنی وارڈ سے منسلک نرسری میں ایک انتہائی دلخراش اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں لگنے والی اچانک آگ کے نتیجے میں کم از کم پندرہ شیرخوار بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔ سرکاری حکام اور اسپتال کے ذرائع کے مطابق جس وقت یہ حادثہ پیش آیا، نرسری وارڈ کے اندر سولہ نوزائیدہ بچے موجود تھے جنہیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت تھی۔ اس ناگہانی آفت نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے اور طبی اداروں میں حفاظتی انتظامات پر شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور فائر فائٹرز فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور طویل جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔ تاہم اس دوران جو نقصان ہوا وہ ناقابل تلافی ہے اور متعدد معصوم جانیں لقمہ اجل بن گئیں۔ عینی شاہدین اور پولیس حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران ایمبولینسز اور پولیس کی بھاری نفری اسپتال کے باہر موجود رہی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو سہولت فراہم کی جا سکے اور امدادی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ اس اندوہناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام نے فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے گی کہ آیا آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی یا اس کے پیچھے کوئی اور تکنیکی خرابی کارفرما تھی۔ کمیٹی اپنی رپورٹ میں غفلت کے ذمہ دار عناصر کا تعین کرے گی تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے اور ملک کے اسپتالوں میں مریضوں کی جان و مال کے تحفظ کو مزید موثر بنایا جا سکے۔