Business
مشرق وسطیٰ بحران: تیل کی قیمتوں میں اضافے کی پیشگوئی
مشرق وسطیٰ میں جاری رس رسد کی رکاوٹوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ ریوٹرز کے ایک حالیہ پول کے مطابق توانائی کی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔
عالمی توانائی کی مارکیٹ میں مشرق وسطیٰ کے خطے سے تیل کی رس رسد میں مسلسل خلل اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے ریوٹرز کی طرف سے کیے گئے ایک حالیہ پول میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرمایہ کار اور تاجر اس خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی بڑی رکاوٹ کے عالمی سپلائی چین پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی دیگر جغرافیائی سیاسی پیش رفت نے منڈی کے شرکاء کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حال ہی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جس میں بعض اوقات نمایاں تیزی جبکہ کبھی کبھار معمولی کمی بھی واقع ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خطے میں جاری تنازعات اور مذاکرات کے ملے جلے اثرات تیل کی مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی کے یہ مسائل طویل عرصے تک جاری رہے تو اس کے نتیجے میں افراط زر اور توانائی کے بحران کا خدشہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں اوپیک (OPEC) اور دیگر بڑے تیل پیداکار ممالک کے فیصلے بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے، جو مارکیٹ کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، عالمی معیشت اور توانائی کے امور کے ماہرین آنے والے ہفتوں میں تیل کی منڈی میں مزید اتار چڑھاؤ کی توقع کر رہے ہیں۔ کاروباری حلقے اس بحران کے خاتمے اور مستقل امن کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ سپلائی کے راستے بحال ہو سکیں اور قیمتوں میں استحکام آ سکے۔