Business
یونی ٹری روبوٹکس کے شیئرز میں گراوٹ، چین میں ببل کا خطرہ
چین کی معروف ہیومنائڈ روبوٹ بنانے والی کمپنی یونی ٹری کے شیئرز میں شنگھائی میں شاندار ڈیبیو کے بعد 45 فیصد تک کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس اچانک گراوٹ نے خوردہ سرمایہ کاروں کے نقصانات اور آئی پی او کے نظام میں مبینہ خامیوں پر شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔
چین کی معروف ترین ہیومنائڈ روبوٹ تیار کرنے والی کمپنی 'یونی ٹری' کے شیئرز میں ہونے والی ڈرامائی گراوٹ نے مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے اور اس سے مارکیٹ میں ببل (Bubble) بننے کے خطرات کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔ شنگھائی میں اپنے شاندار اور ریکارڈ ساز ڈیبیو کے دوران اس کمپنی کے شیئرز میں پانچ گنا سے زائد کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا تھا، جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی تھی۔ تاہم، اس کے فوراً بعد شیئرز کی قیمتوں میں تقریباً 45 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے، جس نے معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس اچانک تنزلی کی بنیادی وجوہات میں مارکیٹ کی حد سے زیادہ توقعات اور قیاس آرائیاں بتائی جا رہی ہیں۔ شیئرز کی اس قدر اتار چڑھاؤ نے نہ صرف چھوٹے اور خوردہ سرمایہ کاروں کو شدید مالیاتی نقصانات سے دوچار کیا ہے بلکہ ملک کے انیشیئل پبلک آفرنگ (IPO) کے نظام میں موجود مبینہ خامیوں اور ضابطہ کار کی کمزوریوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے پرجوش اور غیر مستحکم رجحانات طویل مدت میں اسٹاک مارکیٹ کی صحت مند ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ چینی مارکیٹ کے ریگولیٹرز اور متعلقہ حکام کی جانب سے اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ دریں اثنا، یونی ٹری جیسی جدید اور ہائی ٹیک کمپنیوں کی کارکردگی پر پوری دنیا کی ٹیکنالوجی اور بزنس انڈسٹری کی نظریں لگی ہوئی ہیں، کیونکہ یہ روبوٹکس کے شعبے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔