Technology
ٹیک جائنٹس کا امریکی تعلیم پر اثر: گوگل، مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی
مائیکروسافٹ، گوگل اور اوپن اے آئی جیسی بڑی ٹیک کمپنیاں اب امریکی تعلیمی نظام اور طلباء کے سیکھنے کے انداز کو گہرا متاثر کر رہی ہیں۔ گرمیوں کے دوران مین ہٹن میں اساتذہ کے لیے خصوصی تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا گیا تاکہ وہ جدید اے آئی ٹولز سے روشناس ہو سکیں۔
سنہ 2025 کے گرمیوں کے ایک حب حبس والے دن مین ہٹن کے ایک کانفرنس ہال میں تقریباً دو سو اساتذہ اپنی نشستوں پر براجمان تھے جبکہ مائیکروسافٹ کے نمائندے ان کے منتظر تھے۔ اس روز گفتگو کا بنیادی محور مصنوعی ذہانت اور چیٹ بوٹس کا تعلیمی میدان میں استعمال تھا۔ کمپنی کے نمائندوں نے اساتذہ کو مائیکروسافٹ کو پائلٹ کا تعارف کروایا اور انہیں عملی طور پر تربیت دی کہ وہ ای میلز لکھنے اور دیگر روزمرہ تدریسی کاموں کے لیے اس ٹول کو کس طرح مؤثر انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اس نوعیت کے پروگرام اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ بڑی ٹیک کمپنیاں اب امریکی کلاس رومز میں اپنی جڑیں کتنی گہرائی تک مضبوط کر چکی ہیں۔
صرف مائیکروسافٹ ہی نہیں بلکہ گوگل اور اوپن اے آئی جیسی دیگر دیو قامت ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی تیزی سے اس بات کو شکل دے رہی ہیں کہ امریکی بچے کیا اور کیسے سیکھیں۔ اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے نفوذ نے جہاں تدریسی عمل میں آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں تعلیمی ماہرین اور والدین کے اندر اس امر پر بھی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا بچوں کی فکری اور تعلیمی نشوونما کو اس حد تک نجی اداروں کی ٹیکنالوجی کے سپرد کرنا درست بھی ہے یا نہیں۔ ڈیجیٹل آلات اور اے آئی سسٹمز اب نصابی سرگرمیوں، ہوم ورک اور طلباء کی جانچ پڑتال کے عمل کا ایک لازمی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ اثرات مزید گہرے ہوں گے کیونکہ کمپنیاں خصوصی طور پر طلباء اور اساتذہ کے لیے تیار کردہ پروڈکٹس اور سسٹمز پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اساتذہ کو تربیت دینے کا مقصد بنیادی طور پر تعلیمی نظام میں ان ٹولز کو معمول کا حصہ بنانا ہے۔ اگرچہ اس سے کلاس رومز میں ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ مل رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کی پرائیویسی اور بچوں کی سوچ پر اس کے طویل المدتی اثرات کے حوالے سے اہم سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں جن پر پالیسی ساز غور و خوض کر رہے ہیں۔