LIVE
Loading Breaking News...

آئی آئی ٹی گوہاٹی کی نئی ٹیکنالوجی: پانی سے آرسینک اور فلورائیڈ کا خاتمہ

News Image
آئی آئی ٹی گوہاٹی کے ماہرین نے زیرِ زمین پانی سے آرسینک اور فلورائیڈ کو بیک وقت اور کم لاگت میں صاف کرنے کا نظام بنالیا ہے۔ تجربات کے دوران اس نئی ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز طور پر آلودگی کو بہت کم وقت میں ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
گوہاٹی: انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) گوہاٹی کے محققین نے پانی کی فراہمی کے شعبے میں ایک اہم سائنسی کامیابی حاصل کرتے ہوئے زیرِ زمین پانی سے دو خطرناک ترین آلودگیوں، آرسینک اور فلورائیڈ، کو بیک وقت اور انتہائی کم لاگت میں ختم کرنے کا ایک جدید نظام تیار کیا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی ایسے علاقوں کے لیے امید کی کرن ہے جہاں کے پینے کے پانی میں ان عناصر کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ پائی جاتی ہے اور جو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنتے ہیں۔ محققین کی جانب سے تیار کردہ اس جدید نظام کو 'روٹیٹنگ اینوڈ الیکٹرو کوایগুলেشن سسٹم' (rotating-anode electrocoagulation system) کا نام دیا گیا ہے۔ روایتی طریقوں کے برعکس، یہ نیا نظام پانی میں موجود آرسینک اور فلورائیڈ کو چند ہی منٹوں میں کامیابی کے ساتھ الگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نظام کی مدد سے کیے جانے والے تجربات کے دوران شاندار نتائج سامنے آئے ہیں، جن میں آرسینک (آرسینیٹ) کے خاتمے کی شرح 98.2 فیصد اور فلورائیڈ کے خاتمے کی شرح 91.8 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرِ زمین پانی میں آرسینک اور فلورائیڈ کا طویل عرصے تک استعمال انسانوں میں کینسر، ہڈیوں کی کمزوری اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی تیاری سے نہ صرف صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے گا بلکہ یہ دیہی اور پسماندہ علاقوں کے لیے بھی مالی طور پر انتہائی قابلِ رسائی ہوگی کیونکہ اس پر آنے والا خرچ روایتی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ آئی آئی ٹی گوہاٹی کی یہ ریسرچ ماحولیاتی اور صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک انقلابی قدم تصور کی جا رہی ہے۔ محققین اب اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے پر نافذ کرنے اور بڑے پیمانے پر واٹر ٹریٹمنٹ کے لیے اس کے استعمال پر کام کر رہے ہیں تاکہ عام آدمی تک محفوظ اور خالص پینے کا پانی آسان اقساط یا کم لاگت میں پہنچایا جا سکے۔