LIVE
Loading Breaking News...

ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں عارضی بحری گزرگاہ پر غور

News Image
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک عارضی بحری راہداری کے قیام پر بات چیت جاری ہے تاکہ علاقائی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ اس پیشرفت کا مقصد بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانا اور امریکہ کے ساتھ پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنا ہے۔
ایران اور عمان کے اعلیٰ حکام کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک عارضی بحری گزرگاہ یا شپنگ لین قائم کرنے کے حوالے سے اہم بات چیت کا آغاز ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سفارتی کوشش کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانا اور بین الاقوامی تجارت کے لیے اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانا ہے۔ ایران اور عمان کے اس مشترکہ اقدام کو خطے میں امن اور سفارتی مکالمے کے فروغ کے لیے ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم تیل بردار بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی توانائی کی رسد کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس عارضی راہداری کے قیام سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب امریکہ کی طرف سے ثانوی پابندیوں کے معاملے پر فی الحال نسبتاً تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جس سے تازہ سفارتی کوششوں اور ثالثی کے عمل کو نئی زندگی ملی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور عمان کے درمیان یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طویل عرصے سے چلے آ رہے تعطل کو ختم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ امریکہ کی خاموشی یا نرم رویے کو اس معاملے میں ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے جس سے بین الاقوامی سطح پر کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ خطے کے ممالک طویل عرصے سے آبنائے ہرمز میں سلامتی کے مسائل سے دوچار رہے ہیں اور اس نئے مجوزہ منصوبے سے تجارتی برادری کو بڑی حد تک ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید ملاقاتیں متوقع ہیں جن میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے ضابطہ کار طے کیے جائیں گے۔